جموں: جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوان نسل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ وادی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وبا کی لپیٹ میں ہے، جو سماجی اور صحت عامہ کے لیے نہایت تشویش ناک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔
سرکاری جواب کے مطابق۲۰۲۲میں محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کی مشترکہ سروے رپورٹ نے انکشاف کیا کہ کشمیر کے دس اضلاع میں تقریباً۷۰ہزار افراد منشیات کے استعمال میں مبتلا ہیں، جن میں سے۵۰ہزار ہیروئن کا استعمال کر رہے ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ ریاست بھر میں قائم منشیات مخالف مراکز، ضلع اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور دیگر اداروں میں اب تک تقریباً۶۹ہزار متاثرہ نوجوانوں کو علاج اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان مراکز میں او پی ڈی و ایمرجنسی خدمات کے ساتھ ساتھ متبادل ادویات کے پروگرام بھی جاری ہیں، جہاں مریضوں کی رہنمائی، کونسلنگ اور بتدریج بحالی کا عمل انجام دیا جاتا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق اس وقت مختلف سرکاری مراکز میں۱۱ہزار۸سو سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ۳ سو۵۰سے زیادہ نوجوان مستقل علاج حاصل کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ذہنی صحت و منشیات کے خصوصی کلینک بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو بروقت اور معیاری مدد فراہم کی جا سکے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی مہمات، تربیتی پروگرام، کمیونٹی سطح پر شعور بیداری، اور شہری علاقوں کے ساتھ دیہی و کمزور طبقوں میں خصوصی مداخلت کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت، سماجی بہبود اور متعلقہ ایجنسیاں مشترکہ طور پر این سی او آر ڈی میٹنگز کے ذریعے نگرانی اور کارروائی کو مضبوط بنا رہی ہیں، جبکہ ہیلپ لائن۱۰۴کو فوری رہنمائی اور مشاورت کے لیے فعال رکھا گیا ہے۔ سرکار نے مزید بتایا کہ میڈیکل کالجوں میں داخل مریضوں کے لیے مخصوص وارڈز، نئے منشیات مخالف مراکز، اور کمیونٹی بحالی پروگراموں کے تحت دیہی علاقوں میں خدمات کو مستحکم کیا جا رہا ہے۔ سرینگر کے معروف ذہنی صحت ادارے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کے تحت وسیع تربیتی و بحالی پروگرام بھی جاری ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ منشیات ایک سنجیدہ سماجی المیہ بن چکا ہے، تاہم اس کے تدارک، علاج، بحالی اور روک تھام کے لیے تمام ادارے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ نوجوان نسل کو اس زہر آلود راستے سے بچا کر ایک محفوظ سماجی ماحول فراہم کیا جائے۔
اس دوران منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم میں جموں پولیس نے ایک منشیات فروش کو گرفتار کرکے اس کی تحویل سے ہیروئن جیسا ممنوعہ مواد بر آمد کیا ہے۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پولیس پوسٹ چنور کی ایک ٹیم نے رائے پور چوک کے نزدیک ناکے کے دوران ایک سکوٹی کو روکا جو بن تالاب کی طرف سے آ رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پوچھ تاچھ کے دوران سکوٹی سوار نے اپنی شناخت اویناب گپتا ولد بشن رت ساکن کٹھوعہ حال شیشہ فیکٹری ٹاپھ شیر خانیا جموں کے طور پر ظاہر کی۔ان کا کہنا تھا کہ تلاشی کے دوران اس کی تحویل سے 8.01 گرام ہیروئن جیسا ممنوعہ مواد بر آمد کیا گیا جس کے بعد اس کو بر سر موقع ہی گرفتار کیا گیا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس ضمن میں پولیس اسٹیشن ڈومانہ میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے متعلقہ دفعات کے تحت زیر ایف آئی آر نمبر۴۰/۲۰۲۶ایک مقدمہ درج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ منشیات کی سپلائی چین کے آگے اور پیچھے کے روابط کا پتہ لگانے کے لئے مزید تحقیقات جاری ہیں۔










