جموں: جموں و کشمیر میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا ہے کہ تمام انتظامی و قانونی امور کی نگرانی ریاستی الیکشن کمیشن کے سپرد ہے، جو مطلوبہ تیاریوں پر کام کر رہا ہے۔
اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سرکار نے اعتراف کیا کہ انتخابات کے بروقت نہ ہونے کی بڑی وجہ حدبندی، ریزرویشن اور پس ماندہ طبقات سے متعلق کمیشن کی رپورٹ کا زیرِ غور ہونا ہے۔
حکومت نے بتایا کہ پنچایتوں اور ضلع ترقیاتی کونسلوں کی مدت جنوری۲۰۲۴میں مکمل ہو چکی ہے جبکہ ضلع ترقیاتی کونسل کی مدت فروری۲۰۲۶میں ختم ہوگی۔ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے سرینگر و جموں میونسپل کارپوریشن اور تمام میونسپل کونسلوں اور کمیٹیوں کی مدت اکتوبر اور نومبر۲۰۲۳میں ختم ہو چکی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق جموں و کشمیر کے ۷۷شہری اداروں کی حدبندی کا عمل شروع کیا گیا ہے، جن میں سے۷۲؍اداروں کی حدبندی مکمل ہو چکی ہے جبکہ بقیہ پانچ اداروں کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ پنچایتوں اور شہری اداروں میں ریزرویشن اور نئی وارڈ بندی کی کارروائی صرف اسی وقت شروع کی جا سکتی ہے جب مخصوص پس ماندہ طبقات کے لیے قائم کمیشن کی رپورٹ منظور اور سرکاری طور پر جاری کی جائے۔
انتخابی فہرستوں کی تازہ کاری بھی یکم جنوری۲۰۲۵کی بنیاد پر مکمل کی گئی ہے، تاہم سرکاری ہدایات موصول ہونے کے بعد شہری اداروں میں نئی انتخابی فہرستوں کی تیاری کا عمل شروع ہوگا۔ اس سلسلے میں قانون کے مطابق ذمہ داری ریاستی الیکشن کمیشن کو دی جائے گی۔
انتخابی مواد کی خریداری کے حوالے سے حکومت نے بتایا کہ بیلٹ بکسوں کی خریداری مکمل کر لی گئی ہے اور انہیں تمام اضلاع میں فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ شہری انتخابات میں استعمال کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ریاستی الیکشن کمیشن مدھیہ پردیش کے تعاون سے فراہم کی جا رہی ہیں۔
سرکار نے اعتراف کیا کہ انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے مرکزی حکومت کی جانب سے پنچایتی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے جاری کیے گئے فنڈز پوری طرح استعمال نہیں ہو سکے۔ گزشتہ دو برسوں میں قومی دیہی خودمختاری مہم کے تحت ریاست کو فراہم کیے گئے رقومات کا بڑا حصہ غیر استعمال شدہ رہ گیا، کیونکہ اس دوران منتخب پنچایتی ادارے فعال نہیں تھے۔
۲۰۲۶تک کے لیے منظور شدہ فنڈز کا صرف پندرہ فیصد خرچ کیا جا سکا ہے، جس سے مجموعی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے ہی حدبندی، ریزرویشن اور مخصوص طبقات سے متعلق رپورٹ پر حتمی فیصلہ ہوگا، پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے لیے اگلا مرحلہ فوری طور پر شروع کیا جائے گا، اور ریاستی الیکشن کمیشن پہلے ہی تمام ضروری انتظامات کی تیاری کر رہا ہے۔










