جموں: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ یونین ٹیریٹری میں تقریباً۱۸ہزارمیگاواٹ آبی بجلی پیداوار کی صلاحیت موجود ہے، جس میں سے اب تک صرف تقریباً۳ہزارسے۳۵۰۰میگاواٹ ہی تیار کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے منصوبوں کے مجوزہ اضافے کے ساتھ آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر میں مجموعی بجلی پیداوار تقریباً۷ہزارمیگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ باقی۱۱ہزارمیگاواٹ آبی بجلی صلاحیت کے استعمال کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس اور تجاویز مرکزی حکومت کے ساتھ تال میل میں تیار کی جائیں گی اور آئندہ۱۰سے۱۵برسوں میں مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کا شعبہ ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی، اور یہ بھی نوٹ کیا کہ جموں و کشمیر اس وقت جتنی بجلی پیدا کرتا ہے اس سے زیادہ استعمال کرتا ہے اور استعمال سے مکمل آمدنی بھی حاصل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا’’اگر ہم اپنی بجلی کی صلاحیت کو صحیح طریقے سے استعمال کریں تو ہمیں مرکزی امداد پر اتنا انحصار نہیں کرنا پڑے گا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ مجوزہ اضافے کے بعد مجموعی پیداوار تقریباً۷ہزارمیگاواٹ تک پہنچ جائے گی اور باقی۱۱ہزارمیگاواٹ کے لیے تفصیلی منصوبے مرکزی حکومت کے ساتھ تال میل میں تیار کر کے آئندہ دس پندرہ برسوں میں عملی شکل دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طویل مدتی ہدف جموں و کشمیر کو بجلی میں خود کفیل بنانا اور خاص طور پر گرمیوں کے عروج کے دوران ملک کے دیگر حصوں کو بجلی فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے۔
عمرعبداللہ نے زور دیا کہ صرف پیداوار کافی نہیں، بلکہ ریویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم کے تحت ترسیلی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کچھ اضلاع نے اس اسکیم کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا ہے جبکہ بعض میں تاخیر ہوئی ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں اور مکمل نفاذ کی یقین دہانی کرائی۔
آمدنی کے بارے میں عبداللہ نے کہا کہ بجلی کے استعمال کی ادائیگی ضروری ہے، اور جو واقعی استطاعت نہیں رکھتے ان کے لیے سرکاری مدد فراہم کی جائے گی، جس میں پی ایم سوریہ گھر جیسی اسکیموں کے تحت۲۰۰ مفت یونٹ تک کی فراہمی شامل ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت درست میٹرنگ یقینی بنانے اور بے ضابطگیوں کو شفاف طریقے سے دور کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جن میں محکماتی ملی بھگت کے معاملات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
نجکاری سے متعلق خدشات کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی نہ کوئی تجویز ہے اور نہ ضرورت۔انہوں نے کہا’’ہماری توجہ اکاؤنٹنگ اور بجٹ بہتر بنانے اور مالی ضمانتیں مضبوط کر کے ان کی مالی صحت بہتر بنانے پر ہوگی۔‘‘










