عمرعبداللہ کا حکومت کی مالیاتی حکمت عملی کا دفاع ‘کہامعاشی نمو کے باعث وقت کے ساتھ مالیاتی استحکام بہتر ہوا ہے
جموں: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ مالی سال۲۰۲۴۔۲۵کے دوران جموں و کشمیر کا مجموعی قرض ایک لاکھ۳۷ہزار۶۷ کروڑ روپے اندازہ کیا گیا ہے جو یونین ٹیریٹری کی جی ڈی پی کا۴۸فیصد بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی نمایاں طور پر بڑھ کر۲لاکھ۸۸ہزار۴۲۲کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اپنی حکومت کی مالیاتی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں اضافے سے قرض بمقابلہ جی ایس ڈی پی تناسب موجودہ مالی سال میں۴۸فیصد رہ گیا ہے جو ایک سال قبل۱۵فیصد تھا۔
اسمبلی کو تحریری جواب میں وزیراعلیٰ نے گزشتہ چھ برسوں کے دوران قرض بمقابلہ جی ایس ڈی پی تناسب کی تفصیلات پیش کیں۔
۲۰۱۹۔۲۰۲۰ میں واجبات۸۹ہزار۳۷کروڑ روپے تھے جو اس سال کی جی ایس ڈی پی ایک لاکھ۶۴ہزار۱۰۳کروڑ روپے کا۵۴فیصد بنتے تھے۔
۲۰۲۰۔۲۰۲۱میں کووڈ وبا کے باعث معاشی سکڑاؤ کے دوران واجبات بڑھ کر۹۸ہزار۲۴۴کروڑ روپے ہوگئے اور تناسب۵۹ فیصد تک پہنچ گیا۔۲۰۲۱۔۲۰۲۲میں واجبات ایک لاکھ۶ہزار۷۵۳کروڑ روپے ہوئے تاہم معاشی بحالی کے باعث تناسب کم ہو کر۵۳فیصد ہوگیا۔
جواب میں کہا گیا کہ ۲۰۲۲۔۲۳میں واجبات ایک لاکھ ۹ہزار۸۲۵کروڑ روپے رہے اور تناسب مزید کم ہو کر۴۸فیصد ہوگیا۔۲۰۲۳۔۲۰۲۴ میں واجبات ایک لاکھ۲۵ہزار۲۰۵کروڑ روپے تک پہنچے جبکہ تناسب۵۱فیصد رہا۔
موجودہ مالی سال میں واجبات ایک لاکھ۳۷ہزار۶۷کروڑ روپے اور جی ایس ڈی پی۲لاکھ۸۸ہزار۴۲۲کروڑ روپے ہونے سے تناسب دوبارہ۴۸ فیصد ہوگیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ معاشی نمو کے باعث وقت کے ساتھ مالیاتی استحکام بہتر ہوا ہے اور بڑھتے قرض کے اثرات میں کمی آئی ہے۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ حکومت نے قرض کو غیر پیداواری اخراجات پر صرف نہیں ہونے دیا بلکہ اس کا بڑا حصہ سرمایہ جاتی اخراجات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بجلی شعبے میں اصلاحات اور اثاثہ سازی پر خرچ کیا گیا جس سے طویل مدتی ترقیاتی صلاحیت مضبوط ہوئی۔
جائزہ مدت کے دوران سرمایہ جاتی اخراجات سڑکوں، بجلی ڈھانچے، صحت سہولیات اور دیگر پیداواری شعبوں پر مسلسل صرف کئے گئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قرضے فنانشل رسپانسبلٹی اینڈ بجٹ مینجمنٹ (ایف آر بی ایم) فریم ورک کی مقررہ حدود کے اندر رکھے گئے اور اس کیلئے منظم مارکیٹ قرضہ گیری، بہتر نقدی نظم اور ترقیاتی اخراجات کو ترجیح دی گئی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اندرونی قرض میں اضافہ بغیر پیداواری اثاثہ جات کے دعویٰ اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا اور قرض بمقابلہ جی ایس ڈی پی تناسب میں بہتری ذمہ دار مالیاتی نظم و نسق کی نشاندہی کرتی ہے۔










