تو کیا کشمیریوںکو اب وعدوں پر اعتبار نہیں رہا ؟لگتا تو ایسا ہے کہ کشمیر ی اب وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں اور …….اور اس لئے نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی کبھی لاج نہیں رکھی گئی …….بالکل بھی نہیں رکھی گئی ۔ رکھی گئی ہو تی ‘ وعدوں کو پورا کیا گیا ہو تا تو شاید کشمیری ان پر اعتبار بھی کرتے ……. لیکن وہ اعتبار نہیں کرتے ہیں اور اس لئے نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کا یہ بھروسہ توڑا گیا اور بار بار توڑا گیا ۔ اس لئے اب انہیں وعدوں پر اعتبار نہیں ہے ۔ اپنی طرف سے تو گورے گور ے بانکے چھورے وزیرا علی ٰ‘ عمرعبداللہ نے اسمبلی میں وعدہ کیا ہے ……. ڈیلی ویجروں کا مسئلہ ‘ ان کی مستقلی کا مسئلہ اسی سال حل کرنے کا وعدہ ‘ لیکن ……. لیکن ڈیلی ویجر ان کے وعدے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں ……. ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں انہیں اسی سال مستقل کرنے کا وعدہ کیا تو ……. تو وہ اس وعدے کو سچ مانتے ……. لیکن وہ ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور آئے روز سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔ پیر کو ڈیلی ویجر سرینگر میں حکمران جماعت کے صدر دفتر تک مارج کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ……. ان کی یہ کوشش تو ناکام ہو ئی ……. لیکن ……. لیکن ان کی یہ کوشش ‘ سڑکوں پر آنا اور بار بار آنے کی کوشش اگر کسی بات کی چغلی کھاتا ہے تو اس ایک بات کی کھاتا ہے کہ کشمیری وعدوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں …….اب صاحب ہم تو زیادہ باتیں نہیں کریں گے ……. بالکل بھی نہیں کریں گے سوائے اس ایک بات کے کہ ……. کہ گیند وزیر اعلیٰ کے پالے میں ہیں …….اب ان کی باری ہے …….وعدوں کو نبھانے کی باری ……. وہ وعدے جو انہوں نے الیکشن ……. اسمبلی الیکشن سے پہلے کئے ‘ الیکشن کے دوران کئے اور الیکشن کے بعد حکومت بنانے کے بعد کررہے ہیں ……. یہ وعدے کہ ان کی حکومت سبھی وعدوں کو پورا کرے گی اور ……. اور ایسا ہی ہو اور لوگ …….کشمیری ان کے یا کسی بھی سیاستدان کے وعدوں پر دو بارہ اعتماد اور بھروسہ کرنا شروع کردے تو صاحب ضروری ہے …….یہ ضروری ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈیلی ویجروں سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں ……. اسی سال پورا کریں۔ اور ہاں اس کے علاوہ لوگوں سے کئے گئے دوسرے وعدے بھی ۔ تاکہ لوگ سڑکوں پر نہیں گھروں اور دفتروں میں بیٹھ جائیںاور اپنا کام کریں ۔ ہے نا؟




