کچھ باتیں ایسی ہیں جنہیں ہم سمجھ نہیں پاتے ہیں ……لاکھ کوششوں کے بعد بھی ہم ان کو سمجھ نہیں پا تے ہیں ‘ شاید اس لئے کہ یہ جو ہماری سمجھ ہے ‘ یہ انتہائی نا سمجھ ہے جو اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے …… کچھ بھی نہیں ۔ ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ اعتراض اس بات پر ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ’جوتے پڑے‘ کا جملہ کہا یا اس بات پر کہ انہوں نے یہ جملہ اسمبلی کے اندر کہا ۔وہ کیا ہے کہ ہماری نا سمجھ ‘ سمجھ میں یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ اعتراض اس بات پر ہے کہ وزیر اعلیٰ نے یہ جملہ اسمبلی کے اندر کیوں ادا کیا ……اسی لئے تو ان کے اس جملے کو ’ غیر پارلیمانی ‘ قرار دے کر اس پر احتجاج کیا گیا …… اس وقت تک احتجاج کیا گیا جب تک نہ اپنے وزیر اعلیٰ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ……ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر یہی بات وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کے باہر کہی ہو تی تو کیا ہو تا ……کیا اس وقت بھی ان کی اس بات کو غیر پارلیمانی کہہ کر اس پر احتجاج کیا جاتا …… ہم نہیں جانتےہیں بالکل اسی طرح جس طرح ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ سکینہ جی کو شیشے میں شکل دینے کا مشورہ بھی کیا ’غیر پارلیمانی ‘زمرے میں آتا ہے یا نہیں …… ہم یہ بھی نہیں جانتے ہیں ……اسی طرح وہ سب باتیں ‘ وہ سب جملے ‘وہ سب حرکتیں جو اسمبلی کے اندر ہو ئیں کیا صرف اس لئے قابل اعتراض ہیں کہ …… کہ یہ جملے ‘ یہ باتیں ‘ یہ حرکتیں اسمبلی کے اندر ہو ئیں یا اگر ان سب کو اسمبلی کے باہر بھی قرار دیا جاتا تو اس پر بھی ہمیں وہی ردعمل دیکھنے کو ملتا …… جو ردعمل ہم نے دیکھا ۔یقینا ہم آج بھی اس بات کے قائل ہیں کہ اسمبلی میں سیاسی جماعتیں جو کچھ بھی کہتی یا کرتی ہیں وہ محض ڈرامہ بازی ہو تی ہے ……کچھ اور نہیں ہو تی ہے ……ایسی ڈرامہ بازی جسے دیکھ کر ہم محظوظ ہو تے ہیں ‘ ہم لطف اٹھاتے ہیں …… لیکن صاحب ’جوتے پڑنے‘ اور ’شیشے میں شکل دیکھنے ‘ جیسی باتیں ڈرامہ نہیں ……بالکل بھی نہیں ……یہ باتیں چغلی کھا رہی ہیں ‘ اس بات کی چغلی کہ …… کہ جموںکشمیر کی سیاست کتنی نیچے چلی گئی ہے ‘ اس میں کتنی گراوٹ آئی ہے ……اتنی گراوٹ کہ اب اسمبلی میں بھی وہ باتیں کی جا رہی ہیں جو شاید اس کے باہر بھی قابل قبول نہ ہوں ……اور یہ وہ ایک بات ہے جو ہماری اس نا سمجھ ‘ سمجھ میں آگئی ہے اور سو فیصد آگئی ہے ۔ ہے نا؟




