نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی)
ہندوستانی حکومت نے اپنی انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز 2021 میں ترمیم کی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو غیر قانونی، گمراہ کن، مشتبہ یا خلافِ قانون مواد قرار دیئے جانے کے محض 3 گھنٹے کے اندر اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانا ہوگا۔
یہ تبدیلیاں 2021 کے آئی ٹی قواعد میں ترمیم کے تحت کی گئی ہیں جو پہلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تنازع کا باعث بن چکے ہیں۔
مرکزی حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 میں وسیع تر ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مصنوعی اور اے آئی سے تیار کردہ مواد کے ضابطے مزید سخت ہو گئے ہیں۔ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے آئی ٹی ایکٹ 2000 کی دفعہ 87 کے تحت یہ ترامیم جاری کی ہیں جو 20 فروری 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
نئے قواعد کے تحت انٹرمیڈیئریز یعنی ثالثی پلیٹ فارمز کو خودکار اور تکنیکی حفاظتی اقدامات نافذ کرنا ہوں گے تاکہ ایسے مصنوعی مواد کی تخلیق یا ترسیل روکی جا سکے جو موجودہ قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ اس میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، بغیر رضامندی کی نجی تصاویر، فحاشی، جعل سازی، جھوٹے الیکٹرانک ریکارڈز اور دھماکہ خیز مواد، اسلحہ یا گولہ بارود سے متعلق مواد شامل ہیں۔ ایسے مصنوعی مواد پر خاص پابندی ہے جو افراد یا واقعات کو دھوکہ دہی کے انداز میں غلط طور پر پیش کرے۔
نئے قوانین میں اے آئی سے بنے مواد کو واضح طور پر لیبل کرنے کا تقاضا بھی شامل ہے یعنی ایسی ویڈیوز، آڈیو یا تصاویر جنھیں کمپیوٹر یا کسی الگورتھم کی مدد سے تیار کیا گیا ہو انھیں صاف طور پر مخصوص نشانات کے ساتھ دکھانا ہوگا۔ ان مخصوص نشانات سے نشاندہی ہوگی یہ ویڈیو آرٹی فیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ہے جس سے جعلی ویڈیوز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
غور طلب ہے کہ ترامیم کے تحت ردعمل کا وقت بھی نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے۔ قانونی احکامات کے تحت مواد ہٹانے یا اس تک رسائی روکنے کا عمل اب تین گھنٹوں میں مکمل کرنا ہوگا جبکہ پہلے یہ مدت 36 گھنٹے تھی۔ شکایات کے ازالے کی مدت بھی کم کر دی گئی ہے ابتدائی جواب 15 دن سے کم کر کے 7 دن کر دیا گیا ہے جبکہ بعض مواد ہٹانے کی ذمہ داری صرف دو گھنٹوں تک محدود کر دی گئی ہے۔
قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر انٹرمیڈیئریز مناسب احتیاطی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے غیر قانونی یا مصنوعی مواد کو ہٹاتے یا اس تک رسائی روکتے ہیں، چاہے خودکار آلات کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، تو اسے آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79 کے تحت محفوظ پناہ (سیف ہاربر) کے تحفظ کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جائے گا۔
علاوہ ازیں ایسے مواد پر خودکار ٹولز کے ذریعے جانچ کرنا اور گمراہ کن یا غیر قانونی اے آئی مواد پر قابو پانا اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہوگی۔ اگر حکومت، پولیس یا عدالت کسی خاص پوسٹ یا مواد کو غیر قانونی یا خلافِ قانون قرار دیتی ہے تو اس سوشل پلیٹ فارم کو صرف 3 گھنٹے میں اسے ہٹانا لازم ہوگا۔ یاد رہے کہ پہلے یہ مدت 36 گھنٹے تھی جس میں پلیٹ فارم کو وقت ملتا تھا مگر اب یہ مدت مزید کم کردی گئی ہے۔
ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غلط اطلاعات، گمراہ کن مواد، جنسی استحصال یا نقصان دہ اے آئی مواد کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے عوام خاص طور پر نوجوانوں کو نقصان پہنچانے والے ڈیپ فیک، فیک وائرل ویڈیوز، جھوٹے الزامات یا غلط دستاویزات کی تشہیر کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔










