نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی) انڈیا اتحاد کے آٹھ اراکین پارلیمنٹ کی معطلی ختم کرنے کے مطالبے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ہنگامہ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
صبح 11 بجے جیسے ہی وقفۂ سوالات شروع ہوا، انڈیا اتحاد کے معطل ارکان کی معطلی ختم کرنے کے مطالبے پر اپوزیشن ارکان نعرے بازی اور ہنگامہ کرنے لگے۔ کئی ارکان ایوان کے وسط میں آ کر شور مچانے لگے اور ’’انصاف کرو‘‘، ’’معطلی واپس لو‘‘ کے نعرے لگائے۔
سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر کانگریس ارکان کی حمایت کر رہے تھے۔
اس دوران پریذائیڈنگ افسر پی سی موہن نے وقفۂ سوالات کی کارروائی جاری رکھی۔ جب ہنگامے اور نعرے بازی کا کوئی اثر ہوتا نظر نہ آیا تو اپوزیشن ارکان احتجاجاً ایوان سے باہر چلے گئے۔ اپوزیشن ارکان وقفۂ سوالات ختم ہونے تک ایوان سے باہر رہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اسپیکر کی کرسی کی جانب کاغذ پھاڑ کر پھینکنے اور ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے الزام میں کانگریس کے سات اور سی پی آئی (ایم) کے ایک رکن کو 3 فروری کو بجٹ سیشن کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
وائی فائی کنیکٹیویٹی کا ہدف سال 2030 تک حاصل کر لیا جائے گا: سندھیا
نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی) مواصلات کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے بدھ کو لوک سبھا کو بتایا کہ وائی فائی کنیکٹیویٹی کا ہدف 2030 تک حاصل کر لیا جائے گا۔
مسٹر سندھیا نے وقفہ سوال کے دوران بتایا کہ وائی فائی کنیکٹیویٹی کے ہدف کا 50 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ سال 2030 تک ہدف سے زیادہ حاصل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک 5جی ٹیکنالوجی کے معاملے میں دنیا کے ساتھ چل رہا ہے۔ فی الحال، ملک میں 99.9 فیصد اضلاع میں 5جی خدمات دستیاب ہیں اور اس وقت 5 جی کے 40 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ سال 2030 تک یہ تعداد 40 کروڑ سے بڑھ کر 100 کروڑ ہوجائے گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش کے میانمار کی سرحد سے متصل وجے نگر علاقے کے کچھ علاقوں میں مواصلاتی خدمات فراہم کرانے میں کچھ مشکلات ہیں، جنہیں ریاست کے وزیر اعلیٰ سے بات چیت کرکے اسے دور کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ اس علاقے میں بنیادی مواصلاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔
مواصلات کے وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے بتایا کہ ملک کے 2 لاکھ 14 ہزار گرام پنچایتوں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑدیا گیا ہے۔ جب بھارت نیٹ کا تیسرا مرحلہ شروع ہوگا تو باقی 40,000 گرام پنچایتوں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑ دیا جائے گا۔ ہر گاؤں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑا جائے گا۔
مسٹر پیماسانی نے کہا کہ محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے ہرسرکل کے کام کاج کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے اور جو بھی مسائل اور مشکلات پیش آتی ہیں ان کو حل کیا جاتا ہے۔










