بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home قومی خبریں

امریکہ سے تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے تباہ کن طوفان ہوگا: راہل گاندھی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-12
in قومی خبریں
A A
جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی اور ریاست کا درجہ سب سے اہم :راہل
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

مرمو نے مالدووا کی صدر کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی، کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

ہائی کورٹ کے ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد سہولیات پر یکساں قوانین بنانے کے لیے مرکزی حکومت تشکیل دے کمیٹی: سپریم کورٹ

نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی)
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ کی تمام شرائط تسلیم کر کے ہندوستانی کسانوں کو ایک ایسے طوفان میں جھونک دیا ہے جس سے ملک کی زراعت اور معیشت داؤ پر لگ گئی ہے۔بدھ کے روز بجٹ 27-2026 پر بحث کے دوران حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جس نوعیت کا معاہدہ کیا گیا ہے، ایسا معاہدہ نہ تو پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے کیا اور نہ ہی مستقبل میں کوئی کرے گا۔ اس معاہدے میں مکمل طور پر خودسپردگی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں ہمارے تئیں امریکہ کی کوئی وابستگی نظر نہیں آتی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں بیوقوف بنایا گیا ہے۔ ہندوستانی مصنوعات پر پہلے ڈیوٹی 3فیصد تھی جسے اب بڑھا کر 18فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی درآمدات پر ڈیوٹی جو 16فیصد تھی، اسے اب صفر کر دیا گیا ہے۔ اس سے ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی کیونکہ صدر ٹرمپ نے بنگلہ دیش سے ہونے والی امریکی درآمدات پر ڈیوٹی پہلے ہی ختم کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی حیران کن امر ہے کہ اب امریکہ یہ طے کرے گا کہ ہم تیل کہاں سے خریدیں گے اور وہ اس پر نگرانی بھی رکھے گا۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار کسان ایک طوفان کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی زرعی مصنوعات کے لیے بازار کھول دیا گیا ہے جو کہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت نے ہندوستان کو فروخت کردیا ہے، ہماری ‘بھارت ماتا’ کا سودا کر دیا گیا ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم عام حالات میں یہ معاہدہ نہیں کر سکتے تھے، اس کے پیچھے اصل وجوہات کچھ اور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا اتحاد کی حکومت ہوتی اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کرتے، تو سب سے پہلے یہ بات کرتے کہ ہندوستان کا ‘ڈیٹا’ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر وہ ہمارا ڈیٹا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو بات برابری کی سطح پر ہوگی۔ توانائی کا تحفظ ہماری ترجیح ہے اور ہم اسے ہر حال میں یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے کسانوں کو بھی تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد ہی مساوی سطح پر بات چیت ممکن ہے۔ موجودہ حکومت نے تجارت کا مکمل کنٹرول امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔
مسٹر گاندھی کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارے عوام ہیں۔ ہندوستان کے 1.4 ارب عوام باصلاحیت، متحرک اور ذہین ہیں، جو کسی کو بھی چیلنج دے سکتے ہیں۔ یہ صرف لوگ نہیں ہیں بلکہ ہمارے پاس ڈیٹا کا ایک بڑا ذخیرہ بھی ہے۔ سب لوگ اے آئی کی بات کرتے ہیں، لیکن اے آئی کے بارے میں بات کرنا کسی انجن کے بارے میں بات کرنے جیسا ہے، اس کا ایندھن یعنی ‘ڈیٹا’ بھی اہم ہے۔ اگر آپ کے پاس ڈیٹا نہیں ہے تو اے آئی بھی بے کار ہے۔ اس وقت دنیا میں ڈیٹا کے دو بڑے ذخائر ہیں؛ ایک ہندوستان کا (1.4 ارب لوگوں کا) اور دوسرا چین کا۔ یعنی ہم ڈیٹا کے معاملے میں ایک بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ڈالر کو چیلنج مل رہا ہے اور امریکی برتری کو خطرات لاحق ہیں۔ اب ہم دو سپر پاورز یا کثیر قطبی دنیا کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اقتصادی سروے کی بات درست ہے کہ ان سب کے مرکز میں اے آئی کا دور ہے۔ اس سے آئی ٹی کے شعبے اور انجینئرز کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں توانائی اور مالیات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم استحکام سے عدم استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم اور این ایس اے نے کچھ عرصہ قبل حیران کن طور پر کہا تھا کہ جنگ کا دور اب ختم ہو چکا ہے، لیکن یوکرین اور ایران میں تنازعات جاری ہیں۔ یعنی ہم استحکام سے عدم استحکام کی جانب جا رہے ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

امریکہ کے بعد فرانس اور جرمنی بھی اسرائیلی فیصلے کی مخالفت کردی

Next Post

آٹھ معطل ارکانِ پارلیمنٹ کی بحالی کے لیے اپوزیشن کا واک آؤٹ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

ملک کل۶۷واں ےوم آزادی منا رہا ہے
قومی خبریں

مرمو نے مالدووا کی صدر کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی، کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

2026-07-21
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
قومی خبریں

ہائی کورٹ کے ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد سہولیات پر یکساں قوانین بنانے کے لیے مرکزی حکومت تشکیل دے کمیٹی: سپریم کورٹ

2026-07-21
کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی: نڈا
قومی خبریں

کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی: نڈا

2026-07-21
پولیس نے پارلیمنٹ کے پاس پہنچے مظاہرین پر چھوڑے آنسو گیس کے گولے
قومی خبریں

پولیس نے پارلیمنٹ کے پاس پہنچے مظاہرین پر چھوڑے آنسو گیس کے گولے

2026-07-21
’تیل بحران کے باوجود بھارت کی ترقی نہیں رکی ‘
اہم ترین

’تیل بحران کے باوجود بھارت کی ترقی نہیں رکی ‘

2026-07-18
جموں کے سامبا میں بین الاقوامی   سرحد پر پاکستانی درانداز گرفتار
قومی خبریں

فوجی سربراہ نے مشرقی کمان کا دورہ کر کے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا

2026-07-16
این سی-آئی این سی اتحاد نے اننت ناگ میں کامیابی حاصل کی۔ پی ڈی پی کوئی نشست حاصل کرنے میں ناکام
قومی خبریں

راہل کی دہرادون مہم سے ڈری حکومت، پریڈ گراؤنڈ کی اجازت منسوخ کی: کانگریس

2026-07-16
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح
قومی خبریں

بی جے پی میں شامل ہوئے آپ کے کونسلر وکاس ٹانک

2026-07-16
Next Post
لوک سبھا میں اپوزیشن کاحکومت سے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کامطالبہ

آٹھ معطل ارکانِ پارلیمنٹ کی بحالی کے لیے اپوزیشن کا واک آؤٹ

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.