جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home قومی خبریں

امریکہ سے تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے تباہ کن طوفان ہوگا: راہل گاندھی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-12
in قومی خبریں
A A
جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی اور ریاست کا درجہ سب سے اہم :راہل
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

مودی نے ڈنمارک کی وزیر اعظم فریڈرکسن کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی

دھرمیندر پردھان کو بچانے کی وجہ بتائیں مودی: کانگریس

نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی)
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ کی تمام شرائط تسلیم کر کے ہندوستانی کسانوں کو ایک ایسے طوفان میں جھونک دیا ہے جس سے ملک کی زراعت اور معیشت داؤ پر لگ گئی ہے۔بدھ کے روز بجٹ 27-2026 پر بحث کے دوران حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جس نوعیت کا معاہدہ کیا گیا ہے، ایسا معاہدہ نہ تو پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے کیا اور نہ ہی مستقبل میں کوئی کرے گا۔ اس معاہدے میں مکمل طور پر خودسپردگی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں ہمارے تئیں امریکہ کی کوئی وابستگی نظر نہیں آتی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں بیوقوف بنایا گیا ہے۔ ہندوستانی مصنوعات پر پہلے ڈیوٹی 3فیصد تھی جسے اب بڑھا کر 18فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی درآمدات پر ڈیوٹی جو 16فیصد تھی، اسے اب صفر کر دیا گیا ہے۔ اس سے ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی کیونکہ صدر ٹرمپ نے بنگلہ دیش سے ہونے والی امریکی درآمدات پر ڈیوٹی پہلے ہی ختم کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی حیران کن امر ہے کہ اب امریکہ یہ طے کرے گا کہ ہم تیل کہاں سے خریدیں گے اور وہ اس پر نگرانی بھی رکھے گا۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار کسان ایک طوفان کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی زرعی مصنوعات کے لیے بازار کھول دیا گیا ہے جو کہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت نے ہندوستان کو فروخت کردیا ہے، ہماری ‘بھارت ماتا’ کا سودا کر دیا گیا ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم عام حالات میں یہ معاہدہ نہیں کر سکتے تھے، اس کے پیچھے اصل وجوہات کچھ اور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا اتحاد کی حکومت ہوتی اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کرتے، تو سب سے پہلے یہ بات کرتے کہ ہندوستان کا ‘ڈیٹا’ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر وہ ہمارا ڈیٹا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو بات برابری کی سطح پر ہوگی۔ توانائی کا تحفظ ہماری ترجیح ہے اور ہم اسے ہر حال میں یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے کسانوں کو بھی تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد ہی مساوی سطح پر بات چیت ممکن ہے۔ موجودہ حکومت نے تجارت کا مکمل کنٹرول امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔
مسٹر گاندھی کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارے عوام ہیں۔ ہندوستان کے 1.4 ارب عوام باصلاحیت، متحرک اور ذہین ہیں، جو کسی کو بھی چیلنج دے سکتے ہیں۔ یہ صرف لوگ نہیں ہیں بلکہ ہمارے پاس ڈیٹا کا ایک بڑا ذخیرہ بھی ہے۔ سب لوگ اے آئی کی بات کرتے ہیں، لیکن اے آئی کے بارے میں بات کرنا کسی انجن کے بارے میں بات کرنے جیسا ہے، اس کا ایندھن یعنی ‘ڈیٹا’ بھی اہم ہے۔ اگر آپ کے پاس ڈیٹا نہیں ہے تو اے آئی بھی بے کار ہے۔ اس وقت دنیا میں ڈیٹا کے دو بڑے ذخائر ہیں؛ ایک ہندوستان کا (1.4 ارب لوگوں کا) اور دوسرا چین کا۔ یعنی ہم ڈیٹا کے معاملے میں ایک بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ڈالر کو چیلنج مل رہا ہے اور امریکی برتری کو خطرات لاحق ہیں۔ اب ہم دو سپر پاورز یا کثیر قطبی دنیا کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اقتصادی سروے کی بات درست ہے کہ ان سب کے مرکز میں اے آئی کا دور ہے۔ اس سے آئی ٹی کے شعبے اور انجینئرز کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں توانائی اور مالیات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم استحکام سے عدم استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم اور این ایس اے نے کچھ عرصہ قبل حیران کن طور پر کہا تھا کہ جنگ کا دور اب ختم ہو چکا ہے، لیکن یوکرین اور ایران میں تنازعات جاری ہیں۔ یعنی ہم استحکام سے عدم استحکام کی جانب جا رہے ہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

امریکہ کے بعد فرانس اور جرمنی بھی اسرائیلی فیصلے کی مخالفت کردی

Next Post

آٹھ معطل ارکانِ پارلیمنٹ کی بحالی کے لیے اپوزیشن کا واک آؤٹ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

قصوروا روں کو بخشا نہیں جائیگا ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی:مودی
قومی خبریں

مودی نے ڈنمارک کی وزیر اعظم فریڈرکسن کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی

2026-06-04
وقف ترمیمی قانون پر عدالت عظمی کا حکم اپوزیشن پارٹیوں کی جیت ہے : کانگریس
قومی خبریں

دھرمیندر پردھان کو بچانے کی وجہ بتائیں مودی: کانگریس

2026-06-04
خواتین بل پر صدر کے دستخط :ناری شکتی وندن ادھینیم ہندوستان میں قانون بن گیا
قومی خبریں

صدرجمہوریہ، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سمیت تمام اہم رہنماؤں نے مالویہ نگرآتش زدگی سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
نائب صدر کے دورے سے قبل فول پروف سکیورٹی انتظامات
قومی خبریں

ہندوستان اور جنوبی افریقہ نے دوطرفہ رشتوں کو اور مضوط بنانے کے عزم کا اظہارکیا

2026-06-03
این سی-آئی این سی اتحاد نے اننت ناگ میں کامیابی حاصل کی۔ پی ڈی پی کوئی نشست حاصل کرنے میں ناکام
قومی خبریں

مغربی ایشیا کے بحران اور تیل کی قیمتوں پر مودی کی خاموشی نامناسب: کانگریس

2026-06-03
۱۳ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد 
قومی خبریں

سپریم کورٹ میں مقررکیئے گئے پانچ ججوں نے عہدے کا حلف لیا

2026-06-03
’بھارت دہشت گردی کیخلاف موقف پر ثابت قدم‘
قومی خبریں

وزیراعظم نے چھ سال مکمل ہونے پر پی ایم سواندھی یوجنا کو سراہا

2026-06-02
Next Post
لوک سبھا میں اپوزیشن کاحکومت سے جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کامطالبہ

آٹھ معطل ارکانِ پارلیمنٹ کی بحالی کے لیے اپوزیشن کا واک آؤٹ

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.