جموں: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے پیر کو جموں و کشمیر میں اسپیشل اسسٹنس ٹو اسٹیٹس فار کیپیٹل انویسٹمنٹ(ایس اے ایس سی آئی،ساسکی) اسکیم کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے ہاؤس کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔
اسمبلی میں معاملہ اٹھاتے ہوئے پرّا نے الزام لگایا کہ اس اسکیم کے تحت قرض کا عنصر یونین ٹیریٹری کیلئے سنگین مالی نتائج پیدا کر سکتا ہے اور حکومت سے وضاحت طلب کی کہ آیا یہ ’محفوظ اور محفوظ تر‘ ہے یا نہیں۔انہوں نے عمر عبداللہ حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ان کے خدشات کا جواب دینے کے بجائے ایوان کی کارروائی متاثر کر رہی ہے۔
اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پرّا نے کہا’’میں نے کوئی غلط مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے صرف کہا کہ ایک ہاؤس کمیٹی بنائی جائے۔ چونکہ کانگریس ان کی اتحادی ہے، طارق حمید قرہ صاحب کو ہاؤس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جائے اور ان کی نگرانی میں دیکھا جائے کہ یہ ساسکی قرض جموں و کشمیر کیلئے محفوظ ہے یا خطرناک‘‘۔
ان کاکہنا تھا ’’نئے قرض لینے کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختص فنڈز کا بڑا حصہ ابھی خرچ نہیں ہوا‘‘۔
پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی نے کہا’’جب مختلف مدات کے تحت پہلے ہی رقم خرچ نہیں ہوئی تو کیا ہمیں بازار سے قرض لینے دینا چاہیے؟ سی آر ایف فنڈز خرچ نہیں ہوئے، دیگر ذرائع کے فنڈز خرچ نہیں ہوئے۔ حکومت کا صرف۱۲فیصد خرچ ہوا ہے اور تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے غیر استعمال شدہ ہیں‘‘۔
پرہ نے الزام لگایا کہ ساسکی اسکیم گرانٹ نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی جانب سے مارکیٹ سے لیا جانے والا قرض ہے۔انہوں نے کہا’’آپ ہمیں کیوں رہن رکھ رہے ہیں؟ کس کی ہدایت پر یہ کیا جا رہا ہے؟ کیا اس کے نفاذ سے پہلے ایوان سے پوچھا گیا یا حکومت سے مشاورت کی گئی؟‘‘انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس اسکیم سے جموں و کشمیر کے وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی نجکاری ہو سکتی ہے۔
پی ڈی پی کے ممبر اسمبلی نے کہا’’یہ انفراسٹرکچر ترقی کیلئے نہیں۔ اسپیشل اسسٹنس اسکیم کے نام پر یہ قرض جموں و کشمیر کی زمین، اداروں، دریاؤں، پہاڑوں اور دیہات کو رہن رکھ رہا ہے‘‘۔
ترقیاتی اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے پرّا نے کہا کہ مجموعی بجٹ کا صرف چھوٹا حصہ استعمال ہوا ہے۔انہوں نے کہا’’اگر کل بجٹ تقریباً 1.20 لاکھ کروڑ تھا تو تقریباً۴۰ہزار کروڑ تنخواہوں پر اور صرف تقریباً۷ ہزار کروڑ سرمایہ اور انفراسٹرکچر کاموں پر خرچ ہوئے۔ جب خرچ۱۰سے۱۲ فیصد کے آس پاس ہے تو مارکیٹ سے نیا قرض کیوں لیا جائے؟‘‘
رکن اسمبلی نے عوامی اثاثوں اور وسائل کی مبینہ نجکاری پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ لوگوں کو زمین اور پانی کے وسائل پر کنٹرول کھونے کا خوف ہے۔ (ایجنسیاں)










