ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں‘ آج ہم اس کو دہرا رہے ہیں کہ جناب آپ دل پہ بالکل بھی نہ لیں …….ان سب باتوں کو نہ لیں جو اسمبلی میں کی جاتی ہیں…….عقلمندی اسی میں ہے کہ آپ ان باتوں کو ایک کان سے سن لیں اور دوسرے کان سے انہیں باہر پھینک دیں …….نہیں اپوزیشن کی باتیں ہی نہیں بلکہ حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کی باتیں بھی ……. کسی بات کو لفٹ نہ دیں ‘ اگر آپ اسمبلی اجلاس سے محظوظ ہو نا چاہتے ہیں ……. حقیقی طور پر ہو نا چاہتے ہیں تو بس یہی ایک نسخہ ہے ……. دوسرا کوئی نسخہ نہیں ہے کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو خواہ مخواہ آپ ان باتوں سے پریشان ہو جائیں گے ‘ آپ کو ٹیشن ہو گی اور ٹیشن سے بلڈ پریشر بڑھ جائے گا ……. جو ہم بالکل بھی نہیں چاہتے ہیں ……. بالکل بھی نہیں …….اسی لئے تو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ‘ درخواست اور التجا کررہے ہیںان باتوں کو دل پہ نہ لیں کہ اسمبلی میں جو کوئی بھی کچھ بھی کہتا ہے وہ ڈرامے بازی ہو تی ہے …….یہ صرف جملے ہو تے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی ہے کہ…….کہ ایک جماعت جس کے ایک دو ممبر کھلے طور پر جموںاور کشمیر کے حصے بخرے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ……. کشمیریوں کے غلبے سے جموں کو آزاد کرنے کی مانگ کررہے ہیں ‘ اسی جماعت کا ایک لیڈر دوسری جماعتوں پر جموں کشمیر کی وحدت کےخلاف باتیں کرنے کا الزام لگا رہا ہے …….یہ جناب جموںکشمیر کی وحدت اور سالمیت کی قسمیں کھا رہاہے اور……. اور اس لئے کھا رہا ہے کہ یہ جناب بھی جانتے ہیں کہ وہ ناٹک کررہا ہے ……. ڈرامہ کررہا ہے اور اس لئے کررہا ہے کیونکہ اسمبلی میں سبھی سیاسی جماعتیں اور ان کے ممبران ڈرامے ہی تو کرتے ہیں …….ایوان میں یہ ایک دوسرے کی چیر پھاڑ کرتے ہیں …….اپنی باتوں ‘ جملوں اور فقروں سے ‘ایسا لگتا ہے کہ یہ کبھی ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھیں گے ‘ بات کرنا تو دور کی بات ہے ……. لیکن پھر شام کو یہ سب ایک ہی میز پر کھانا کھاتے ہیں …….گپ شپ کرتے رہتے ہیں …….اور یہ ڈرامہ نہیں ہوتا ہے …….ایک ہی میز پر کھانا کھانا ‘ گپ شپ کرنا ڈرامہ نہیں ہو تا ہے یہ حقیقی ہو تا ہے ……. یہ حقیقت ہوتی ہے …….ڈرامہ تو وہ ہوتا ہے جو اسمبلی کے اندر ہو تا ہے …….اسی لئے تو صاحب ہم آپ سے پھر کہہ رہے ہیں کہ جناب اس ڈرامے سے آپ بھی محظوظ ہو جائیے اور ہمیں بھی ہونے دیں کہ……. کہ آپ کو قسم ہے آپ دل پر کچھ بھی لیں……. بالکل بھی نہ لیں ۔ ہے نا؟




