مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر میں مجوزہ تین ریلوے منصوبوں کو روکنے کے فیصلہ کا کشمیر میں ہر ایک طبقہ ہائے فکر خیر مقدم کررہا ہے ۔ یہ ایک ایسا مستحسن فیصلہ ہے جس کے دور رس سماجی، معاشی اور سیاسی مضمرات ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وادی میں زمین، روزگار اور شناخت کے حوالے سے خدشات مسلسل گہرے ہو رہے تھے۔ خاص طور پر جنوبی کشمیر کے اضلاع—پلوامہ، شوپیاں اور اننت ناگ‘میں سیب کے باغات پر ممکنہ اثرات نے مقامی آبادی کو تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ان حالات میں منصوبوں کی معطلی نے نہ صرف باغبانوں کو فوری راحت دی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ ترقی کے نام پر مقامی معیشت اور عوامی مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیر میں زمین ہمیشہ سے ایک نایاب اور قیمتی وسیلہ رہی ہے۔ پہاڑی جغرافیہ، محدود زرعی رقبہ اور بڑھتی آبادی نے یہاں زمین کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔ ایسے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، خصوصاً ریلوے لائنوں جیسے منصوبے، اگر وسیع پیمانے پر اراضی کے حصول کے متقاضی ہوں تو فطری طور پر مزاحمت جنم لیتی ہے۔ سیب کے باغات محض فصل نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی، ثقافتی شناخت اور مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کسی بھی ایسے منصوبے سے جو ان باغات کو نقصان پہنچائے، صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی عدم استحکام کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
مرکزی وزیر ریلوے کی جانب سے یہ تسلیم کرنا کہ ابتدائی سروے میں سیب کے باغات کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، ایک اہم اعتراف ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ سری نگر سے بارہمولہ تک پہلے سے موجود ریلوے لائن کے ہوتے ہوئے نئی لائنوں کی ضرورت پر سوال اٹھنا بھی ایک منطقی نکتہ ہے۔ ترقی کی دوڑ میں یہ ضروری ہے کہ ضرورت، افادیت اور نقصان—تینوں کو یکساں وزن دیا جائے۔ اگر کسی منصوبے کے فوائد محدود اور نقصانات وسیع ہوں تو اس پر نظرثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
یہ فیصلہ عوامی دباؤ، احتجاج اور سیاسی مداخلت کے امتزاج کا نتیجہ بھی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران مقامی باشندوں اور باغبانوں نے مسلسل احتجاج کیا، مطالبات پیش کیے اور یہ واضح کیا کہ وہ ترقی کے مخالف نہیں بلکہ غیر منصفانہ ترقی کے خلاف ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ منصوبوں کے راستے تبدیل کیے جائیں، منصفانہ معاوضہ دیا جائے اور زمین کے حصول سے قبل بامعنی مشاورت کی جائے۔ یہ مطالبات کسی بھی جمہوری نظام میں جائز اور آئینی ہیں۔ حکومت کا ان خدشات کو سننا اور ان پر عمل کرنا جمہوری بالغ نظری کی علامت سمجھا جانا چاہیے۔
ریاستی سطح پر قیادت کی مداخلت بھی اس فیصلے میں اہم رہی۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں کیے گئے اعلیٰ سطحی رابطوں، اراکینِ پارلیمنٹ کی ملاقاتوں اور مسلسل بات چیت نے مرکز کو اپنے موقف پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ یہ عمل اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ وفاقی ڈھانچے میں ریاستی آواز کی اہمیت برقرار ہے۔ جب مقامی نمائندے عوامی مفادات کے لیے یک زبان ہو جائیں تو پالیسی میں تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا ردعمل بھی قابلِ توجہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ کسانوں کو بے دخل کرنے والی ترقی، ترقی نہیں ہوتی‘ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی ہے۔ ترقی اگر مقامی آبادی کو غیر یقینی میں دھکیل دے، ان کی زمین اور روزگار چھین لے، تو وہ دیرپا نہیں ہو سکتی۔ دنیا بھر میں اب یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پائیدار ترقی وہی ہے جو ماحول، مقامی معیشت اور سماجی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
اس فیصلے کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے کشمیر کے لوگوں کو یہ احساس ملا کہ ان کے خدشات سنے جا رہے ہیں۔ ماضی میں اکثر یہ تاثر رہا ہے کہ بڑے فیصلے دہلی میں بیٹھ کر کیے جاتے ہیں اور مقامی آواز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ریلوے منصوبوں کی معطلی نے اس تاثر میں جزوی دراڑ ڈالی ہے۔ یہ ایک اعتماد سازی کا قدم ہے، جس کی وادی میں اشد ضرورت تھی۔
تاہم، یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ معطلی مستقل ہے یا محض وقتی؟ حکومت نے منصوبوں کو مزید جائزے تک غیر معینہ مدت کے لیے معطل کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ان پر دوبارہ غور ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ کسی بھی منصوبے سے قبل جامع ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا مطالعہ کیا جائے، مقامی کمیونٹی کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے اور متبادل راستوں یا ماڈلز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
کشمیر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر رابطہ، نقل و حمل اور سہولیات خطے کی مجموعی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ لیکن یہ ترقی اگر باغبانی، زراعت اور مقامی صنعتوں کی قیمت پر ہو تو اس کے نتائج منفی ہوں گے۔ اصل چیلنج توازن قائم کرنے کا ہے‘ایسا توازن جس میں سڑکیں اور ریل لائنیں بھی ہوں اور باغات بھی محفوظ رہیں؛ جہاں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں اور پرانے ذرائع بھی برقرار رہیں۔
مرکزی حکومت کے حالیہ فیصلے نے ایک مثال قائم کی ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ اگر ارادہ ہو تو ترقی اور تحفظ ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مثال کو مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے، نہ کہ ایک وقتی رعایت کے طور پر دیکھا جائے۔ کشمیر جیسے حساس اور وسائل سے بھرپور مگر نازک خطے میں فیصلے محض فائلوں پر نہیں بلکہ زمین پر اثرات کو دیکھ کر ہونے چاہئیں۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجوزہ ریلوے منصوبوں کی معطلی نے وقتی طور پر ہی سہی، مگر کشمیر کے باغبانوں، کسانوں اور مقامی باشندوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔ اب ذمہ داری حکومت، سیاسی قیادت اور منصوبہ ساز اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس فیصلے سے سبق سیکھیں اور آئندہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں۔ ترقی اگر عوام کے ساتھ ہو تو ہی ترقی کہلاتی ہے‘ورنہ وہ محض تعمیرات کا شور بن کر رہ جاتی ہے۔





