نہیں صاحب یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے ‘ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہو رہا ہے …….اور اگر اسے ایسے ہی ہونے دیا جائے تو صاحب یہ بھی ٹھیک نہیں ہو گا ‘ بالکل بھی نہیں ہو گا ۔ اس لئے صاحب جس کے بھی ہاتھ میں یہ ہے ‘ وہ انہیں روک لے اور اس پر فوراً روک لگائے کہ اللہ میاں کی قسم اس میں کشمیریوں کی کوئی خطا نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے کہ بے چارے کشمیری تو ملک کے دوسرے حصوں میں روز گار کمانے کیلئے جاتے ہیں……. اپنا مستقبل بہتر بنانے کیلئے جاتے ہیں ……. پڑھائی کیلئے بھی جاتے ہیں اور …….اور یوں کشمیریوں کا ملک کے دوسرے حصوں میں جاکر اپنی جائز سرگرمیاں جاری رکھنے سے کشمیر اور ملک میں رشتہ مزید بہتر او ر مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے ……. لیکن نہ جانے کچھ لوگوں کو یہ پسند کیوں نہیں آرہا ہے ……. کیوں انہیں اچھا نہیںلگتا ہے کہ ملک اور کشمیر میں دوریوں کو کم کیا جائے …….نہ جانے انہیں کیوں اچھا نہیں لگ رہاہے کہ کشمیری ملک کے دوسرے حصوں میں محنت مزدوری کرکے ورز گار کمائیں …….اور اس لئے ان پر حملہ ہوتے رہتے ہیں ……. کہیں ان کی پٹائی کی جاتی ہے……. کہیں ان کا مال لوٹا جاتا ہے …….کہیں ان سے محب وطن ہونے کا ثبوت مانگا جاتا ہے …….یقینا یہ مٹھی بھر لوگ ہی ہیں …….ملک کی غالب اکثریت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ……. لیکن ان مٹھی بھر لوگوں کی حرکات سے کشمیریوں کی نفسیات پر جو اثر پڑ رہا ہے ‘ وہ کافی گہرا ہے …….اور اس لئے ہے کہ ماضی میں ایسے واقعات کشمیر یا ملک کے کسی دوسرے حصے میں کسی دہشت گردحملے کے ردعمل میں ہو تے تھے …….یقینا ًاُس وقت بھی کشمیریوں پر ان حملوں کا کوئی جواز نہیںتھا ……. لیکن صاحب اب یہ حملے بغیر کسی وجہ‘ کسی جواز کے ہو تے ہیں …….یوں سمجھ لیجئے کہ ان مٹھی بھر لوگوں کے حوصلے جیسے بلند ہو گئے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ انہیںکشمیریوں پر حملہ کرنے کی کھلی جائسنس مل گئی ہے اور…….اور یوں وہ کشمیریوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں ۔ لیکن ……. لیکن صاحب یہ ٹھیک نہیں ہے‘ یہ صحیح نہیں ہے …….اس پر روک لگانی ہو گی اور مستقل طور پر لگانی ہو گی …….یہ ملک کشمیریوں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی اور کا ہے …….کشمیریوں کوپورا حق ہے کہ وہ ملک کے کسی اور حصے میں جا کر اپنی روزی روٹی کمائیں بالکل اسی طرح جس طرح لاکھوں ‘ جی ہاں لاکھوں کی تعداد میں غیر کشمیری ‘ وادی آکر محنت مزدوری کرکے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں اور ہاں خود کو محفوظ بھی تصور کرتے ہیں ۔ ہے نا؟




