سرینگر: بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے جمعہ کے روز کہا کہ مرکزی بجٹ سے قبل وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے تمام فریقین کو اعتماد میں لیا ہے، جبکہ اسی طرز پر جموں و کشمیر کے آئندہ بجٹ کے لیے بھی مشاورت کا عمل جاری ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کول نے کہا کہ بجٹ سے متعلق امور پر سماج کے مختلف طبقات سے مشورہ کیا گیا ہے۔
کول نے کہا’’بھارت کی وزیرِ خزانہ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بجٹ میں شامل کیے جانے والے نکات پر اپنی تجاویز پیش کی ہیں‘‘۔
جموں و کشمیر کے بجٹ ‘جو۶یا۷ فروری کو پیش کیا جانا ہے‘کے حوالے سے کول نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بھی وسیع پیمانے پر مشاورت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا’’ہمارے وزیر اعلیٰ تمام اسٹیک ہولڈرز اور انجمنوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ وکلاء، تاجروں اور دیگر کئی انجمنوں کے ساتھ بات چیت ہو چکی ہے۔ یکم فروری کو ایک بڑا، نظرثانی شدہ اور عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا‘‘۔
ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر حملوں کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اشوک کول نے ایسے واقعات کی سخت مذمت کی۔انہوں نے کہا’’ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بھی ان کی مذمت کی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا ملک ایک ہے اور ہر شہری کو بھارت میں کہیں بھی سفر کرنے، رہنے اور کاروبار کرنے کا حق حاصل ہے‘‘۔
کول نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں متعلقہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات کی ہے اور پارٹی قائدین نے بھی معاملہ اٹھایا ہے۔
بی جے پی لیڈر نے کہا’’ایسے واقعات کا دوبارہ ہونا نہیں چاہیے۔ یہ غلط ہیں اور ہم ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘










