سرینگر: کشمیر میں ایک بار پھر طاقتور مغربی ہواؤں کا سلسلہ سرگرم ہو چکا ہے ، جس کے نتیجے میں۲۶جنوری کی رات سے۲۷جنوری کی شام تک بھاری برف باری اور تیز ہواؤں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
جمعرات کی صبح سے ہی وادی کے مختلف حصوں میں موسم کی شدت میں بتدریج اضافہ محسوس کیا گیا ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق ایک اچھا خاصا برفانی سلسلہ وادی پر اثر انداز ہونے والا ہے ، جس کی زیادہ شدت۲۷جنوری کو متوقع ہے ۔
ماہر موسمیات کے مطابق اس سسٹم کے دوران میدانی علاقوں میں بھی برف گرنے کا امکان ہے جبکہ بالائی علاقوں میں درمیانی درجے سے بھاری برف باری کے علاوہ کہیں کہیں گرج چمک اور تیز آندھی چلنے کا امکان ہے ۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ۲۶؍اور۲۷جنوری کو وادی کے بیشتر علاقوں میں معتدل سے بھاری برف باری اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے ، خاص طور پر۲۶کی رات سے۲۷کی شام تک موسم میں بڑی تبدیلی متوقع ہے ۔۲۸ تا۳۱جنوری موسم جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے ، جبکہ یکم تا۳ فروری بھی مطلع جزوی طور پر ابر آلود ہوسکتا ہے ۔
ادھر محکمہ نے وادی کے لیے ایک خصوصی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ مسافروں اور ٹرانسپورٹروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سفر سے قبل ٹریفک پولیس سے ہائی وے کی تازہ صورتحال ضرور حاصل کریں کیونکہ بھاری برف باری کی وجہ سے جموں۔سری نگر قومی شاہراہ پر رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔
بالائی برفانی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈھلوانوں اور برفانی تودے گرنے والے مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں۔
زمینداروں اور باغبانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ۲۸جنوری تک تمام زرعی سرگرمیاں معطل رکھیں۔
ادھروادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی جزوی نقل و حمل بحال کردی گئی ہے اور پہلے درماندہ گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہے ۔
ادھر مغل روڈ، سرینگر، لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ مسلسل تین دنوں سے بند ہیں۔
ٹریفک حکام نے اتوار کو بتایا کہ سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے اور پہلے نویوگ ٹنل اور ناشری ٹنل کے درمیان درماندہ گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مغل روڈ، سری نگر – لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ مسلسل تین دنوں سے بند ہیں۔
حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ شاہراہوں کی تازہ جانکاری کے لئے ٹریفک پولیس ٹویٹر ہینڈل، فیس بک پیج اور متعلقہ ٹریفک کنٹرول رومز کے ساتھ رابطہ کریں۔










