منگل, اکتوبر 27, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

زمانہ بدل گیا لیکن لوگ اب دوبارہ مٹی کے برتنوں کی طرف لوٹنے لگے ہیں

’ڈاکٹروں کی ہدایات پر گزشتہ چند برسوں سے وادی کے لوگوں میں مٹی کے برتنوں کی مانگ پھر سے بڑھ رہی ہے‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-01-20
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
زمانہ بدل گیا لیکن لوگ اب دوبارہ مٹی کے برتنوں کی طرف لوٹنے لگے ہیں
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

عمرعبداللہ کابیبہ میں توسیع اور رد و بدل آج

دنیا کے صرف۳ فیصد گلیشیئرز عالمی برفانی نقصان کے نصف سے زیادہ کے ذمہ دار: تحقیق

سرینگر: سری نگر میں جھیل ڈل کے کناروں پر واقع روحانی مرکز کی حیثیت کی حامل تاریخی درگاہ حضرت بل میں گذشتہ سات دہائیوں سے مٹی کے برتن فروخت کرنے والا ایک سن رسیدہ کاریگر اپنے پیشے کے بقا و تحفظ کے تئیں انتہائی فکر مند ہے ۔
حاجی غلام محمد کمار نامی یہ عمر رسیدہ ہنر مند‘جو گزشتہ ستر برس سے درگاہ کے باہر مٹی کے برتن فروخت کر رہا ہے، تیزی سے بدلتی دنیا میں ایک ایسی روایت کے امین ہیں جو اب دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے ۔
مضبوط ارادوں کے مالک حاجی غلام محمد اپنی جھریوں بھری پیشانی پر فخر کی ہلکی سی مسکراہٹ لیے یو این آئی کے ساتھ ہمکلام ہوتے ہوئے کہا’’میں بچپن سے ہی اس پیشے سے جڑا ہوں۔ میرے والد، دادا سب یہی کام کرتے تھے ۔ آج بھی اسی مٹی کی مہک نے مجھے تھام رکھا ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’میرے زمانے میں ہر گھر میں مٹی کے کم از کم دس پندرہ برتن ہوا کرتے تھے ۔ شادی بیاہ سے لے کر گھریلو تقریبات تک، یہ برتن کشمیری تہذیب کا حصہ تھے ۔مٹی کے برتنوں کا ذائقہ ہی کچھ اور تھا۔ اب تو زمانہ بدل گیا ہے لیکن لوگ اب دوبارہ اس طرف لوٹنے لگے ہیں‘‘۔
بزرگ کاریگر نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے لوگوں میں مٹی کے برتنوں کی مانگ پھر سے بڑھ رہی ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹروں کی وہ ہدایات ہیں جن میں وہ مریضوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ کھانا مٹی کے برتنوں میں پکایا جائے یا کھایا جائے ‘‘۔
کمار نے فخر بھر لہجے میں کہا ’’ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ مٹی کے برتن میں کھانے سے معدے کے امراض کم ہوتے ہیں، کھانا ہلکا رہتا ہے اور جسم پر منفی اثرات نہیں چھوڑتا۔ لوگ اب سمجھنے لگے ہیں کہ پرانا طریقہ ہی سب سے بہتر تھا‘‘۔
اگرچہ برتنوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ، لیکن بڑھتی لاگت نے کاریگروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔
ان کے مطابق’’پہلے مٹی آسانی سے مل جاتی تھی۔ اب مٹی بھی مہنگی، مزدوری بھی مہنگی، اور جلانے کا سارا سامان بھی مہنگا ہو گیا ہے ۔ برتن بنانے پر جو خرچہ آتا ہے وہ پرانے وقتوں سے کئی گنا بڑھ گیا ہے ‘‘۔
دیہی علاقوں سے خصوصی مٹی لانا، اس کی صفائی، گوندھائی، چاک پر ڈھالنا، پھر انہیں پکانے کے لیے لمبا عمل،یہ سب آج کے دور میں ایک مہنگا اور محنت طلب کام بن چکا ہے ۔
کمار کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اب نئی نسل مٹی کے برتنوں کے اس عظیم ورثے کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے کہا’’آج کل کے نوجوان موبائل، کمپیوٹر اور آسان کمائی والے کاموں کی طرف جا رہے ہیں۔ اس ہنر میں محنت ہے ، وقت لگتا ہے ، ہاتھ گندے ہوتے ہیں۔ نوجوان اسے کرنا نہیں چاہتے‘‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے برسوں میں کشمیری مٹی کے برتن تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائیں گے ۔
درگاہ حضرت بل جہاں ہزاروں عقیدت مند روزانہ آتے ہیں، وہیں حاجی غلام محمد کی دکان بھی اس ماحول کا حصہ بن چکی ہے ۔ لوگ درگاہ کی زیارت کے بعد ان کے پاس سے مٹی کے برتن خریدنا ایک روایت سمجھتے ہیں۔انہوں نےکہا’’میرے بہت سے گاہک برسوں سے آرہے ہیں۔ کچھ باہر کے ریاستوں سے بھی صرف اس لیے آتے ہیں کہ انہیں کئی سال پرانی وہی مہک، وہی لمس، وہی روایت چاہیے جو مٹی کے برتن دیتے ہیں‘‘۔
درگاہ کے آس پاس مٹی کی بھنی ہوئی خوشبو، برتنوں کی قطاریں، اور حاجی صاحب کا روایتی اندازیہ سب مل کر سرینگر کے اس علاقے کو ایک زندہ ثقافتی منظر میں بدل دیتے ہیں۔کمار کی یہ داستان اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ کشمیر کے قدیم ہنر زوال کا شکار ہیں۔
اگر حکومت کی طرف سے ہنرمندوں کے لیے خصوصی اسکیمیں، مالی امداد، ہنر کو فروغ دینے والے مراکز، اور جدید مارکیٹنگ کی تربیت فراہم کی جائے تو یہ ہنر نہ صرف زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
موصوف کاریگر کا کہنا ہے’’ستر برس کا یہ سفر صرف تجارت نہیں بلکہ کشمیری ثقافت کے ایک ستون کی محافظت کی داستان ہے ،جب تک ہاتھوں میں جان ہے یہ کام کرتا رہوں گا۔ یہ صرف میرا پیشہ نہیں، یہ میری پہچان ہے ، میری عبادت ہے ، میری زندگی ہے ‘‘۔
درگاہ حضرت بل کے سائے میں بیٹھا یہ بزرگ کاریگر آج بھی ہر آنے والے کو اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مٹی کے برتن نہ صرف فروخت کرتا ہے بلکہ انہیں ایک ایسے ورثے سے جوڑکر دیتا ہے جو وقت گزرنے کے باوجود آج بھی اپنی مہک سے زندہ ہے ۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

Next Post

کشتواڑ تصادم میں زخمی فوجی جوان دم توڑ بیٹھا‘محاصرہ جاری

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

عمرعبداللہ کابیبہ میں توسیع اور رد و بدل آج

2026-10-27
پانچ کشمیری گلیشیائی جھیلیں انتہائی زیادہ سیلابی خطرے کی حامل قرار
اہم ترین

دنیا کے صرف۳ فیصد گلیشیئرز عالمی برفانی نقصان کے نصف سے زیادہ کے ذمہ دار: تحقیق

2026-10-27
۷۹واں یومِ آزادی:وزیر اعلیٰ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے
اہم ترین

’کشمیر میراتھن نے یو ٹی کے عالمی کھیلوں کے تشخص کو مضبوط بنایا‘

2026-10-27
بیٹے کی بودھ لڑکی سے شادی ‘باپ کیلئے مہنگی ثابت ‘ بی جے پی سے نکالا گیا
اہم ترین

یومِ الحاق پر بی جے پی کا جشن‘پی ڈی پی کا وعدوں اور حقوق کی بحالی پر زور

2026-10-27
شمالی ہندوستان میں آندھی اور طوفان، جنوبی ہندوستان میں شدید بارش کی وارننگ
اہم ترین

شوپیاں میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے‘ سردی میں اضافہ

2026-10-27
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح
اہم ترین

وزیر اعظم کے والد سے متعلق  کھڑگے کے بیان پر جموں  میں بی جے پی کا احتجاج

2026-10-27
پلوامہ میں دہشت گردی مخالف پولیس کارروائیاں جاری
اہم ترین

کٹھوعہ میں مشتبہ نقل و حرکت کی  اطلاع کے بعد تلاشی مہم شروع

2026-10-27
گاندربل میں موٹر سائیکل کی   ٹکر سے راہگیر جاں بحق، ایک زخمی
اہم ترین

راجوری میں سڑک حادثے میں۱۶مسافر زخمی

2026-10-27
Next Post
کشتواڑ تصادم میں زخمی فوجی جوان دم توڑ بیٹھا‘محاصرہ جاری

کشتواڑ تصادم میں زخمی فوجی جوان دم توڑ بیٹھا‘محاصرہ جاری

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.