امتحان میں انڈا آجائے تو …….گھر میں ڈنڈا تیار ہوتا تھا ‘وہ بھی تیل مل کر ۔اس ڈنڈے کے خوف سے ہی محنت کی جاتی تھی……. زیادہ نہیں ‘ لیکن اتنی کہ امتحان میں کبھی انڈا نہ آجا ئے …….ڈنڈے کا ڈر تو ہوتا ہی تھا ……. لیکن ساتھ میں انڈے کا غصہ بھی …….اس بات کا غصہ کہ کبھی اسے خود بھی امتحان دینا پڑے اور…….اور پھر اسے انڈا آجائے تو…….تو تب جا کے اسے معلوم ہو جائےگا ‘ پتہ چلے گا کہ امتحان میں انڈا آنے سے زیادہ وحشت ناک کچھ نہیں ہو سکتا ہے…….اور اگر ایسا ہو جائے تو ممکن ہے کہ انڈا ‘ہر امتحان میں بن بلائے مہمان کی طرح یونہی منہ اٹھاکے نہ آئے …….قسمت کا کرنا کہ وہ دن بھی آ ہی گیا کہ جب انڈا بھی امتحان میں شامل ہوا……. اس کا بھی امتحان لیا گیا …….اسے بھی امتحان سے گزرنا پڑا…….اور خبر یہ ہے کہ انڈا اس امتحان میں پاس ہو گیا…….انڈے کو اس امتحان میں انڈا نہیں آیا ‘آتا تو عین ممکن ہے کہ اسے بھی ڈنڈا ملتا …….اور اس کیلئے ایک وار ہی کافی تھا ۔خیر !انڈا پاس ہو گیا ہے اور اس کامیابی پر ہم اسے مبارکباد پیش کرتے ہیں ……. گرچہ ہماری خواہش تھی کہ کم از کم ایک بار اسے بھی امتحان میں انڈا ملے تاکہ …….اس کی سمجھ میں یہ آجائے کہ امتحان میں انڈا آنے کا کیا مطلب ہے ……. لیکن صاحب ہر ایک خواہش پوری تو نہیں ہو سکتی ہے …….سو ہماری یہ خواہش بھی پوری نہیں ہو ئی اور انڈا پاس ہو گیا ۔ ہمیں اس کے پاس ہونے پر خوشی ہے ……. ہم اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ انڈا نے امتحان پاس کرنے کیلئے کوئی غیر منصفانہ کام اور حرکت نہیں کی ہو گی ……. لیکن ……. لیکن اسے جنہوں نے پاس کیا …….امتحان میں ڈنڈا……. معاف کیجئے انڈا نہیں دیا ‘ ان پر ہمیں کوئی بھروسہ نہیں ہے …….ان پر ہمیں کوئی یقین نہیں ہے کہ …….کہ ان میں یہ خدا داد صلاحیت موجود ہے کہ امتحان میں انڈا آنے پر وہ انڈا نہ دیںاور…….اور جب کہ امتحان خود انڈے کا ہو تو…….تو صاحب انڈا اور انڈے والوں کا پاس لحاظ رکھتے ہوئے انہوں نے انڈے کو امتحان میں انڈا نہ دیا ہو …….نہیں صاحب ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہو گا……. ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سنڈے ‘منڈے ہم سب روز کھاتے ہیں انڈے …….روز اتنے انڈے کھاتے ہیں کہ …….کہ انڈوں کو امتحان میںانہیں انڈا دینے کیلئے بچا ہی نہ ہو اور…….اور یوں انڈا پاس ہو گیا ۔ ہے نا؟




