سرینگر: سپریم کورٹ نے پیر کے روز اجمیر میں واقع درگاہ خواجہ معین الدین چشتیؒ پر وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری طور پر ’چادر‘ پیش کرنے یا ریاستی سرپرستی میں اعزازی رسومات کی روایت کے خلاف دائر ایک عرضی کو مسترد کر دیا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ چونکہ ’چادر‘ پہلے ہی پیش کی جا چکی ہے، اس لیے یہ معاملہ غیر مؤثر (انفروکچوئس) ہو چکا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جس کا فیصلہ عدالت کر سکتی ہو۔
عرضی گزاروں نے حکومتِ ہند، بشمول وزیر اعظم، کو اجمیر درگاہ میں سالانہ عرس کے موقع پر ’چادر‘ جیسی اعزازی رسومات ادا کرنے سے روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اس نوعیت کی کارروائیاں عوامی خواہشات، قومی خودمختاری اور بھارتی آئین کی روح کے منافی ہیں۔‘‘
اجمیر شریف درگاہ پر اعزازی ’چادر‘ پیش کرنے کی روایت ایک طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے، جس کا آغاز۱۹۴۷میں پنڈت جواہر لال نہرو نے کیا تھا اور بعد کے تمام وزرائے اعظم نے اس روایت کو برقرار رکھا۔
یہ درخواست جتیندر سنگھ، صدر وشوا ویدک سناتن سنگھ، اور وشنو گپتا، قومی صدر ہندو سینا کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ اس مفادِ عامہ کی عرضی میں خواجہ معین الدین چشتیؒ کو دی جانے والی ’’ریاستی سرپرستی، سرکاری اعزازات اور علامتی اعتراف‘‘ کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عرضی میں تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ معین الدین چشتیؒ بارہویں صدی میں شہاب الدین غوری کی یلغار کے دوران ہندوستان آئے اور غیر ملکی فتوحات اور تبدیلیٔ مذہب کی مہمات سے وابستہ تھے، جبکہ ان کی درگاہ کو بہت بعد میں ادارہ جاتی شکل دی گئی۔
عرضی میں کہا گیا، ’’تاریخی ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معین الدین چشتیؒ ان غیر ملکی حملوں سے وابستہ تھے جن کے نتیجے میں دہلی اور اجمیر فتح کیے گئے اور مقامی آبادی کو بڑے پیمانے پر محکوم بنایا گیا اور تبدیلیٔ مذہب پر مجبور کیا گیا۔ یہ اقدامات بھارت کی خودمختاری، وقار اور تہذیبی اقدار کے سراسر منافی ہیں۔ ایسی شخصیت کو اعزازی خراجِ عقیدت پیش کرنا آئین کے دیباچے میں درج انصاف، آزادی، مساوات اور قومی یکجہتی جیسی اقدار کو کمزور کرتا ہے اور عوامی خواہشات کو نظر انداز کرتا ہے۔‘‘










