سرینگر/۳۰دسمبر
ٹریفک رورل کشمیر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) رویندر پال سنگھ نے منگل کو کہا ہے کہ ٹریفک پولیسنگ کا بنیادی مقصد انسانی جانوں کو بچانا اور سڑک حادثات میں کمی لانا ہے ۔
سرینگر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ ٹریفک پولیس کی تعیناتی اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کی جاتی ہے کہ ٹریفک قوانین کی سختی سے پاسداری ہو اور قانون شکن ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی قانونی دفعات کے تحت عمل میں لائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سال۲۰۲۵میں شروع کیا گیا مشن نئے سال میں بھی برابر قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
سنگھ نے بتایا کہ عوام میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور میں واضح اضافہ ہوا ہے اور لوگ خود بھی محفوظ ٹریفک نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایس ایس پی نے کہا’’لوگ پہلے سے زیادہ باشعور اور تعاون کرنے والے بن چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ برسوں میں بھی ڈرائیور حضرات ٹریفک قوانین کی پابندی جاری رکھیں گے ‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ محکمہ آنے والے دنوں میں آگاہی پروگراموں کو مزید تیز کرے گا، جن میں اسکولوں، کالجوں، سومو اسٹینڈز اور دیگر عوامی مقامات پر عہد برداری مہم، این سی سی کیڈیٹس اور سماجی شراکت داروں کی شمولیت اور ٹریفک انفراسٹریکچر کو مزید مضبوط کرنا شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حادثات کی روک تھام کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
سالانہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ایس ایس پی رویندر پال سنگھ نے بتایا کہ گزشتہ برس کے مقابلے اس سال بہتر صورتحال دیکھنے کو ملی ہے ۔
۲۰۲۴میں جہاں۲۷۹؍افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے‘وہیں سال۲۰۲۵کے دوران۲۰۲؍اموات رپورٹ کی گئی ہیں، جو کہ ایک نمایاں کمی ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ سال بھر میں۳لاکھ سے زائد چالان کاٹے گئے اور نفاذی کارروائیوں کے دوران ۲۴ء۱۱کروڑ روپے سے زیادہ ریونیو جمع ہوا، جب کہ کئی گاڑیاں بھی ضبط کی گئیں۔
ایس ایس پی نے کہا کہ سخت کارروائیوں کا مقصد جرمانہ وصول کرنا نہیں بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا اور ڈرائیونگ کے ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دینا ہے ۔انہوں نے کہا’’ہماری تمام کوششوں کا مقصد قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ہے ۔ ٹریفک نفاذ کا اصل ہدف محفوظ سفر، ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور حادثات میں واضح کمی لانا ہے ‘‘۔
محکمے کے مطابق نئی حکمت عملی، بہتر نگرانی اور عوامی تعاون سے۲۰۲۶میں حادثات میں مزید کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ایجنسیز










