جاتے جاتے ۲۰۲۵ نے پاکستان کو خوش کردیا ہو گا … رخصت ہورہا سال‘ جو کسی بھی طرح پاکستان کیلئے خوشی کا باعث نہ بن سکا … لیکن جاتے جاتے نہ جانے کیوں اسے پاکستان پر تر س آیا اور اس نے اسے خوش کردیا… یہ کہتے ہو ئے کہ … کہ’تم بھی کیا یاد کرو گے‘۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو… تو بھارت اس کے بیان پر ردعمل ظاہر نہیں کرتا… بالکل بھی نہیں کرتا … اُس بیان پر جس میں پاکستان نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ اس کے بقول رواں رکھے جا رہے غیر مناسب سلوک کی بات کی تھی… عام طور پر بھارت ‘ پاکستان کے کسی بھی بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتا… اسے نظر انداز کرتا ہے… کچھ اس طرح کہ جیسے اس ملک کا ہونا یا نہ ہونا یا اس ملک کا کوئی بیان دینا یا نہ دینا ایک ہی بات ہے… یوں سمجھ لیجیے بھارت، پاکستان کو اس لائق بھی نہیں سمجھتا ہے کہ وہ اس کے بیان… کسی بیان پر ردعمل دے… لیکن… لیکن نہ جانے کیوں سال کے رخصت ہو تے ہوتے پاکستان نے ایسا کیا کرم کیا جو بھارت نے اس کے بیان پر ایک مختصر سا بیان جاری کیا جس میں اسے یاد دلایا گیا کہ اگر آپ ہم پر انگلی اتھاتے ہو تو… تو آپ کی تین چار انگلیاں آپ کی طرف ہی اشارہ کرتے ہیں… آپ پر ہی اٹھتی ہیں … اور یہ سچ بھی ہے… پاکستان کا گھر شیشے کا بنا ہوا ہے… اس لئے اسے ہاتھ میں پتھر اٹھانا زیب نہیں دیتا ہے… بالکل بھی نہیں دیتا ہے… کہ بھارت کا ایک معمولی سا کنکر بھی اس کے اس شیش محل کو زمین بوس کرسکتا ہے… کہ صاحب دنیا جانتی ہے… دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا جاتا ہے… ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے… انہیں دوسرے نہیں بلکہ تیسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے … اور صاحب جب بات ایسی ہو… معاملہ ایسا ہو تو… توصاحب پھر ہمسایہ ملک کو اپنا منہ رکھنا چاہئے اور… اور ہاں انگلیاں نیچے … اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا …کہ…کہ ہر ایک سال ایک جیسا نہیں ہو سکتا ہے… بالکل بھی نہیں ہوسکتا ہے … ۲۰۲۵ نے تو جاتے جاتے اسے خوش کر دیا … لیکن آنے والا سال بھی ایسا ہی رحم دل ہو … یہ ضروری نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔




