نہیں صاحب ہم میں اتنی ہمت نہیں ہے… جرأت بھی نہیں۔اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم گستاخ بھی نہیں ہیں… گستاخی نہیں کر سکتے ہیں… اس لئے ہم خاموش رہنا چاہتے تھے لیکن ہم سے خاموش رہا نہیں جا رہے ہے… بالکل بھی نہیں رہا جا رہا ہے… وہ کیا ہے کہ کل اپنے وزیر دفاع‘راج ناتھ سنگھ جی کاکہنا ہے کہ… کہ آپریشن سندور کے ودران مسلح افواج بہت کچھ کر سکتی تھیں… بہت کچھ ‘ لیکن انہوں نے نہیں کیا اور … اور اس لئے نہیںکیا کیونکہ ہم نے ضبط و تحمل سے کام لیا اور… اور مزید کچھ نہ کرنے کا فیصلہ کیا …اب صاحب چھوٹا منہ بڑی بات تو ہم نہیں کر سکتے ہیں… لیکن… لیکن جناب یہ بھی کیا بات ہو ئی … یقینا یہ کوئی بات نہیں ہو ئی … روکنا نہیں تھا … مسلح افواج کو بالکل بھی نہیں روکنا تھا اور… اور انہیں کر گزرنے دینا تھا جو ضروری تھا یا جو وہ کر گزرنا چاہتی تھیں… کہ… کہ روز روز ہم وہ سب کچھ کیوں سہ لیں جو ہمارا ہمسایہ ملک ہم سے کرنا چاہتا ہے یا کرتا آیا ہے… موقع ملا تھا … ایک اچھا موقع ملا تھا اسے سبق سکھانے کا ‘ اسے اس کی اوقات دکھانے کا موقع ملا تھا… اور اس موقعے کا فائدہ اٹھانا بھی چاہئے تھا … اور… اور اس لئے چاہئے تھا تاکہ ہمسایہ ملک دوبارہ سر نہ اٹھائے… ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے … موقع یقینا ملاتھا… ایسا موقع جو باربار میسر نہیں آتا ہے… جو بار بار ہاتھ نہیں آتا… ایسا موقع صدیوں نہ سہی لیکن کئی دہائیوں بعد ہاتھ آتا ہے…اب ہمیں تو یاد نہیں لیکن راج ناتھ جی اور ان کے ساتھی ہی ہمیں یاد دلاتے ہیں… یہ یاد دلاتے ہیں کہ … کہ نہرو جی کو بھی موقع ملا تھا… اچھا موقع ملا تھا ‘ لیکن انہوں نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور انہوں نے بھی ضبط و تحمل سے کام لیا…یہ کئی دہائیوں پہلے کی بات ہے اور کئی دہائیوں کی بعد کی بات بھی کچھ مختلف نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے کہ… کہ اب کی بار بھی موقع ملا تھا… اچھا خاصا موقع ملا تھا … لیکن… لیکن اب کی بار بھی اسی ضبط و تحمل سے کام لیا گیا جس ضبط و تحمل سے کام لینے پر راج ناتھ جی اور ان کے ساتھ اکثر نہرو جی کی شکایت کرتے رہتے ہیں… اور ہاں ان سے خفا خفا بھی رہتے ہیں… ہے نا؟




