قومی ترانے وندے ماترم کی بے حرمتی کے مسئلے پر کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں بحث کے دوران غیر حاضر رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس نے قومی گیت پر سمجھوتہ کیا اور ’مسلم لیگ کے سامنے سر جھکا دیا‘۔
لوک سبھا میں وندے ماترم کے ۱۵۰ برس مکمل ہونے پر دن بھر جاری رہنے والی بحث کا آغاز کرتے ہوئے مودی نے کہا’’پارلیمنٹ میں سنگین بحث چل رہی ہے لیکن قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ پہلے نہرو، اور اب راہل گاندھی نے وندے ماترم کیلئے بے اعتنائی دکھائی ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ کانگریس نے قومی گیت کی توہین کی اور مسلم لیگ کے سامنے سرنگوں ہوئی۔انہوں نے کہا’’کانگریس آج بھی وندے ماترم کی توہین کرتی ہے۔کانگریس نے وندے ماترم پر سمجھوتہ کیا اور مسلم لیگ کے سامنے جھک گئی۔ نہرو نے وندے ماترم کے ’ٹکڑے ٹکڑے‘ کیے‘‘۔
وزیر اعظم نے ایک تاریخی خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’نہرو نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کو لکھا تھا کہ وندے ماترم مسلمانوں کو بھڑکا سکتا ہے۔ وندے ماترم کے ساتھ غداری کی گئی؛ اس قومی گیت کو سبوتاژ کیا گیا‘‘۔
مودی نے آزادی کی جدوجہد میں اس گیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ گیت ہماری ہزاروں سال کی تاریخ اور وراثت کو جگانے کے لیے تھا‘‘۔انہوں نے کہا’’وندے ماترم آزادی کی تحریک کی آواز بن گیا۔ اس نے پورے ملک کو ایک ساتھ جوڑا اور ہر ہندوستانی کا عزم بن گیا… سَوالت کا بَلی دان ہے یہ شبد وندے ماترم۔ ویر کا اَبھیمان ہے یہ شبد وندے ماترم‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا ’’برطانوی دور میں، ہندوستان کو کمزور، نکما، سست اور ہر ممکن طریقے سے کمتر دکھانا ایک رواج بن گیا تھا۔ ہمارے ہی ملک میں کچھ لوگ یہی زبان بولتے تھے۔ بنکم دا نے یہ گیت قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور بیداری لانے کے لیے لکھا۔ یہ گیت ہماری ہزار سالہ تاریخ اور وراثت کو زندہ کرنے کے لیے تھا‘‘۔
مودی نے کہا کہ وندے ماترم صرف سیاسی آزادی کے لیے ایک منتر نہیں تھا، بلکہ اس کے۱۵۰ برس مکمل ہونے کے موقع پر یہ ہماری عظیم تہذیبی روایت کا جدید روپ ہے۔
وزیر اعظم نے وندے ماترم کو ایک ’’طاقتور منتر‘‘ اور ایسا نعرہ قرار دیا جس نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو توانائی اور تحریک دی، اور کہا کہ حکومت اس کی عظمت کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا’’وندے ماترم صرف سیاسی آزادی کا منتر نہیں تھا۔ یہ ہماری آزادی سے کہیں آگے تھا۔ آزادی کی تحریک ہماری ماں دھرتی کو غلامی سے آزاد کرانے کی جنگ تھی… ویدوں میں کہا گیا ہے کہ یہ دھرتی میری ماتا ہے اور میں اس کی اولاد ہوں۔ یہی خیال شری رام نے لنکا چھوڑتے وقت ظاہر کیا تھا۔ وندے ماترم ہماری عظیم تہذیبی روایت کا جدید روپ ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے انگریزوں کی تقسیم کرو اور راج کرو کی پالیسی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ۱۹۰۵ میں بنگال کو تقسیم کیا، لیکن ’’وندے ماترم چٹان کی طرح کھڑا تھا‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ وہ وقت تھا جب انگریزوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی شروعات کی۔ انہوں نے بنگال کو اپنی تجربہ گاہ بنایا۔ وہ جانتے تھے کہ بنگال کی علمی صلاحیت پورے ملک کو سمت، طاقت اور تحریک دیتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے بنگال کو تقسیم کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر بنگال تقسیم ہوا تو ملک تقسیم ہو جائے گا…۱۹۰۵ میں جب بنگال تقسیم ہوا، وندے ماترم چٹان کی طرح کھڑا رہا‘‘۔
مودی نے کہا’’وندے ماترم ایک منتر، ایک نعرہ ہے جس نے آزادی کی تحریک کو توانائی، تحریک اور قربانی اور تپسیا کا راستہ دکھایا۔ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ہم وندے ماترم کے ۱۵۰ برس کے تاریخی موقع کے گواہ بن رہے ہیں‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک اس وقت کئی تاریخی برسیاں منا رہا ہے، جن میں آئین کے ۷۵ سال، سردار پٹیل اور برسا منڈا کی ۱۵۰ویں سالگرہ، اور گرو تیغ بہادر جی کی۳۵۰ویں شہادت بھی شامل ہیں۔وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ حکومت کا مقصد وندے ماترم کی عظمت کو آئندہ نسلوں کے لیے دوبارہ اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے اسے ایسا منتر قرار دیا جس نے ملک کو ہمت، قربانی اور لگن کا راستہ دکھایا۔
مودی نے کہا’’یہ وہ منتر ہے جس نے آزادی کی تحریک کو توانائی دی، حوصلہ دیا، قربانی اور عزم کا راستہ دکھایا۔ آج اس مقدس وندے ماترم کو یاد کرنا ہم سب کے لیے اعزاز ہے۔ اس کے ۱۵۰ برس ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں‘‘۔انہوں نے تاریخی تناظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ آئین ’گلا گھونٹ دیا گیا تھا‘جب وندے ماترم کی ۱۰۰ویں سالگرہ ایمرجنسی کے دوران آئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ لاکھوں ہندوستانیوں نے یہی نعرہ لگاتے ہوئے آزادی کی جنگ لڑی، جو قوم کو متحد کرنے کی بنیاد بنا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا’’جب وندے ماترم کے ۵۰سال پورے ہوئے، ہندوستان برطانوی غلامی میں تھا۔ جب ۱۰۰ سال پورے ہوئے تو ملک ایمرجنسی کی گرفت میں تھا… اْس وقت محبِ وطن جیلوں میں ڈال دیے گئے۔ وہ گیت جس نے آزادی کی تحریک کو جنم دیا، اس کے ۱۰۰ برس پر ملک تاریک دور سے گزر رہا تھا۔اب ۱۵۰ سال ہمارے لیے موقع ہے کہ ہم اس فخر اور اپنی شاندار تاریخ کو دوبارہ زندہ کریں… یہی گیت ہمیں ۱۹۴۷ میں آزادی تک لایا‘‘۔
اپوزیشن کی غیر موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اب وقت ہے کہ ’’ملک کو شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک دوبارہ متحد کیا جائے‘‘۔انہوں نے کہا’’یہاں نہ کوئی قیادت ہے نہ کوئی اپوزیشن۔ ہم سب یہاں وندے ماترم کا قرض ادا کرنے کے لیے موجود ہیں۔ اسی گیت کی بدولت ہم سب اکٹھے ہیں۔ یہ ایک مقدس موقع ہے جب ہم وندے ماترم کے احسان کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس نے ملک کو شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک جوڑا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر متحد ہو کر آگے بڑھیں۔ یہ گیت ہمیں تحریک دے کہ ہم اپنے مجاہدینِ آزادی کے خواب پورے کریں۔ہمیں عہد کرنا ہے کہ ۲۰۴۷ تک ملک کو خود کفیل اور ترقی یافتہ بنائیں‘‘۔
بی جے پی کی سربراہی والی این ڈی اے حکومت کو لوک سبھا کی بحث میں تین گھنٹے دیے گئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر دس گھنٹے کی بحث طے ہے۔ بحث کا سلسلہ منگل ۹ دسمبر کو راجیہ سبھا میں بھی جاری رہے گا۔
۱۸ویں لوک سبھا کا چھٹا اجلاس اور۲۶۹واں راجیہ سبھا اجلاس یکم دسمبر کو شروع ہوا اور۱۹ دسمبر تک جاری رہے گا۔










