سرینگر/۳دسمبر
وزیرِ اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کابینہ میں ریزرویشن سے متعلق سب کمیٹی کی رپورٹ پر ہونے والی بحث سے متعلق کسی بھی قسم کے تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تمام سرکاری لوازمات مکمل نہ ہوں اور فائل لیفٹیننٹ گورنر کو نہ بھیجی جائے، تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جموں میں منعقدہ کابینہ اجلاس کے اختتام کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کابینہ میٹنگ کی کارروائی ابھی تحریری شکل میں مرتب ہونی ہے، اس پر دستخط ہونے ہیں اور اسے ایل جی کے دفتر بھیجا جانا ہے، اس لیے اس مرحلے سے پہلے کوئی عوامی بیان دینا قبل از وقت ہوگا۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا’’کابینہ میٹنگ کی کارروائی لکھ کر، دستخط کر کے ایل جی کو بھیجنی ہوتی ہے۔ جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا، اس بات پر ٹِکا تبصرہ مناسب نہیں کہ کیا فیصلہ ہوا ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ کابینہ نے عوامی توقعات پر پورا اترنے اور ریزرویشن کے ڈھانچے کو منصفانہ انداز میں معقول بنانے کیلئے سنجیدہ کوشش کی ہے۔ان کاکہنا تھا’’ہم نے پوری کوشش کی کہ لوگوں کی توقعات پر پورا اتریں۔ ہم نے وعدے کے مطابق ریزرویشن نظام کو معقول بنانے کی کوشش کی اور یہ بھی یقینی بنایا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو‘‘۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ریزرویشن کا معاملہ نہایت حساس نوعیت کا ہے، اس لیے اسے حل کرنے میں وقت لیا گیا۔انہوں نے کہا’’یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے سیاست بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اسی لیے وقت لیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے شفاف انداز میں کام کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اب گیند لیفٹیننٹ گورنر کے کورٹ میں ہے اور فائل کے ایل جی آفس پہنچنے تک اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ان کاکہنا تھا’’کابینہ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اب معاملہ ایل جی کے پاس ہے۔ جب تک فائل ان کے دفتر نہیں پہنچتی، میں اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گا‘‘۔
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ سب کمیٹی میں اس معاملے پر کئی سطحوں پر بات چیت ہوئی تھی، اور تقریباً چھ ماہ تک سکینہ ایتو کی سربراہی میں اسے حل کرنے کی کوشش جاری رہی۔انہوں نے کہا’’ریزرویشن کا مسئلہ سب کمیٹی کی متعدد میٹنگوں میں زیرِ بحث آیا۔ تقریباً چھ ماہ تک اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی‘‘۔
عمر عبداللہ نے نام لیے بغیر کہا کہ کچھ افراد نتیجے سے خوش نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میرے کچھ دوستوں کو یہ فیصلہ پسند نہیں آئے گا۔ لیکن یہ کسی ایک شخص کی خوشی کیلئے نہیں کیا گیا۔ یہ بڑے مفاد کیلئے کیا گیا ہے‘‘۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں محکمہ بجلی، ریزرویشن پالیسی اور سردیوں کی تیاریوں سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس دوران لائیو اسٹاک اور فشریز سیکٹر سے جڑے کوآپریٹو سوسائٹیز کو مضبوط کرنے کیلئے مالی امداد کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ وزیر جاوید رانا نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کئی اہم ایجنڈے منظور کیے گئے ، جن میں آر اینڈ بی محکمے کے افسران کی سینیارٹی کی توثیق اور ترقیوں کا معاملہ سب سے نمایاں رہا۔
رانا نے بتایا کہ کابینہ نے جموں و کشمیر اینمل پروٹیکشن بورڈ کے قیام کی بھی منظوری دے دی ہے ، جس کا مقصد مویشیوں کی فلاح و بہبود، جانوروں سے متعلق قوانین کی مؤثر نگرانی اور متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے ۔
اس دوران مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجرز کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا۔ جاوید رانا نے بتایا کہ چیف سیکریٹری کو جلد از جلد جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
وزیر نے کہا’’ڈیلی ویجرز کا معاملہ بڑا اور حساس ہے ۔ حکومت ان کے ساتھ انصاف کرنے کی پابند ہے ، اس لیے فیصلہ سازی کے لیے تفصیلی رپورٹ جلد طلب کی گئی ہے ‘‘۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں کو ہدایت دی گئی کہ زیر التوا رپورٹس جلد جمع کرائی جائیں اور آج منظور شدہ فیصلوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، تاکہ عوامی خدمات اور انتظامی نظام میں بہتری لائی جا سکے ۔
بدھ کے روز ایک اور تقریب کے دوران وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستوں کی ’’خصوصی ہمہ گیر نظرِ ثانی‘‘(ایس آئی آر)کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کو بریفنگ دی جائے، تاکہ جو تحفظات موجود ہیں انہیں دور کیا جا سکے اور پورا عمل شفاف رہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتخاب ہمیشہ منصفانہ اور شفاف ہونا چاہیے، اور اس میں شک یا اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، جو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ان کاکہنا تھا’’اگر ایس آئی آر کے حوالے سے شکوک موجود ہیں تو الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر اس پورے عمل کے بارے میں وضاحت کرے اور اعتراضات دور کرے‘‘۔
ان کے یہ ریمارکس اس پس منظر میں آئے ہیں کہ کئی غیر این ڈی اے جماعتوں نے ایس آئی آر پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے کبھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شبہ ظاہر نہیں کیا، کیونکہ ان کے نزدیک ’’ای وی ایم کو چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بنانا ممکن نہیں‘‘۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخاب کو دوسرے طریقوں سے ضرور متاثر کیا جا سکتا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اگر آپ یہاں کی ڈی لِمیٹیشن دیکھیں‘جو ۲۰۱۹ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ کے بعد ۲۰۲۲ میں مکمل ہوئی‘تو یہ بھی انتخابی ہیرا پھیری کی مثال ہے۔ آپ نے جموں میں چھ نشستیں بڑھا کر ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچایا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ شاید اسی وجہ سے ایس آئی آر پر بھی تحفظات پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ الیکشن کمیشن خود تمام جماعتوں کو بلا کر ساری تفصیل سمجھائے، تاکہ کسی کو کوئی شک نہ رہے۔
ریاسی کے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں ایم بی بی ایس داخلوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع پر جب ایک سوال پوچھا گیا‘خاص طور پر بی جے پی کے ایک وفد کی جانب سے مرکزی وزیر صحت سے نشستیں صرف ہندو طلبہ کے لیے مختص کرنے کی مانگ کے حوالے سے‘تو عمر عبداللہ نے سخت موقف ظاہر کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اگر آپ نشستیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس ادارے کو اقلیتی ادارہ ہی قرار دے دیں۔ جو گرانٹ اِن ایڈ آپ کو حکومت سے ملتی ہے اسے چھوڑ دیجیے، ہم اسے کہیں اور خرچ کر دیں گے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ زمین کی قیمت ادا کیجیے، گرانٹ لینا بند کیجیے، اپنا اسٹیٹس تبدیل کیجیے، پھر اگر مذہب کی بنیاد پر نشستیں دینا چاہتے ہیں تو ضرور دیں…اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ چونکہ اس وقت ادارہ این ای ای ٹی کے ذریعے داخلے دے رہا ہے، اس لیے میرٹ اور صلاحیت ہی واحد معیار ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا ’’اگر کوئی طالب علم میرٹ لسٹ میں نہیں آ پایا تو اس کا الزام دوسروں پر کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟‘‘










