تہران، 2 دسمبر (یو این آئی) ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کو ہمارا اعتماد بحال کرنے کے لیے سفارتکاری کا دوبارہ سے آغاز کرنا ہوگا۔
جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی، دونوں وزراء نے دوطرفہ تعاون، قونصلر امور اور انسانی مسائل کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا اور روایتی اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔
جاپان کے وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کو جلد از جلد بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
جاپانی وزارت خارجہ کے مطابق، موتیگی نے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کے ساتھ مکمل تعاون بحال کرے ، جبکہ عراقچی نے اس کے جواب میں ایران کا موقف واضح کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو سفارت کاری کی طرف واپسی کے لیے ایران کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہوگا، گفتگو کے آغاز میں عراقچی نے موتیگی کو دوبارہ وزارت خارجہ کا قلمدان ملنے پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ان کی نئی مدت میں ایران اور جاپان کے درمیان تعمیری تعاون مؤثر انداز میں جاری رہے گا۔
موتیگی نے مغربی ایشیا میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں جاپان کے تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ کیا، علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اقدامات کا خیرمقدم کیا اور ٹوکیو کی جانب سے سیاسی حل کی حمایت پر زور دیا۔
دوسری جانب عمانی براڈکاسٹر موسیٰ الفرعی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ نے تہران کو اپنے بہت سے سیکیورٹی خلا کو دور کرنے کا موقع دیا۔
انہوں نے اسے اسرائیلی ریاست کی ایک بڑی غلط اندازہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ غلطی دہرائی گئی تو نتیجہ بھی بالکل ویسا ہی نکلے گا، یہ جنگ ہمارے لیے قیمتی تجربہ ثابت ہوئی کیونکہ اس نے ہماری کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور ہم نے انہیں ختم کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا اسرائیل نے سوچا تھا کہ اگر یہ جنگ شروع ہوئی تو ایرانی قوم سڑکوں پر نکل کر حکومت اور نظام کے خلاف احتجاج کرے گی۔ لیکن ہوا بالکل اس کے برعکس۔ قوم سڑکوں پر نکلی تو حکومت اور ملک کی حمایت میں نکلی۔”









