سرینگر/۲۸نومبر
کشمیر اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کے بعد روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ ایک طرف چلۂ کلان سے قبل ہی سردی کی شدید لہر نے لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے ، تو دوسری طرف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی، بے قابو اور مسلسل اضافے نے عوام کو ذہنی و مالی پریشانیوں کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔
مارکیٹ میں سبزیوں، پھلوں‘مرغی‘دودھ، دالیں، حتیٰ کہ ضروری گھریلو اشیاء تک کی قیمتیں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران۳۰سے۷۰فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے خصوصاً کنزیومر افیئرز اینڈ پبلک ڈسٹری بیوشن اور مارکیٹ انسپکشن ٹیمیں مکمل طور پر غائب ہیں، اور مارکیٹ کی کوئی نگرانی نہیں کی جا رہی۔
وادی کے کئی علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی اور کم وولٹیج نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔ سردی بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے ، لیکن صارفین کے مطابق سپلائی کی صورتحال انتہائی خراب ہے ، جس کے باعث انہیں متبادل ذرائع جیسے گیس اور لکڑی کی طرف رخ کرنا پڑ رہا ہے ، جن کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
سرینگر کے اہم بازاروں میں سبزی فروش اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ ریٹ لسٹیں صرف دکھاوے کے لیے لگی ہوتی ہیں، جبکہ دکاندار اپنی مرضی کے دام بتاتے ہیں۔
خانیار سے تعلق رکھنے والے محمد شفیع، ایک سرکاری ملازم، نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا’’سردی کی مار تو ہے ہی، مگر اصل پریشانی یہ ہے کہ روزمرہ کی چیزیں دوگنی قیمت پر مل رہی ہیں۔ کنزیومر افیئرز کا کوئی بندہ مارکیٹ میں نظر ہی نہیں آتا۔ اگر یہی صورتحال رہی تو عام آدمی کیسے گزر بسر کرے گا؟‘‘
لال بازار کی ایک مقامی خاتون، شبنم اکرم، نے کہا’’سبزی، دودھ، انڈے ، گیس-سب کچھ مہنگا۔ گھر کا بجٹ پوری طرح بگڑ گیا ہے ۔ حکومت صرف بیانات دیتی ہے ، مگر مارکیٹ پر کوئی کنٹرول نہیں۔ عورتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں کیونکہ گھر کا خرچہ ہماری ذمہ داری ہے ‘‘۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر سال سردیوں سے پہلے یہی بہانہ بنایا جاتا ہے ، جبکہ اصل وجہ نگرانی کا فقدان اور متعلقہ محکموں کی مبینہ نااہلی ہے ۔
شہر اور دیہاتوں میں ریٹ کنٹرول انسپکشن ٹیمیں یا تو موجود نہیں، یا پھر ان پر’آنکھ بند کر کے چلنے‘کے الزامات لگ رہے ہیں۔ کچھ شہریوں نے یہاں تک کہا کہ کئی دکانوں میں پرانی ریٹ لسٹیں جان بوجھ کر استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ صارفین کو دھوکہ دیا جائے ۔
عوام میں اس بات پر شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے کہ امور صارفین محکمہ، مارکیٹ چیکنگ اسکواڈ اور دیگر متعلقہ محکموں نے اب تک کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی ہے ۔ سخت سردیوں میں جب عام شہری پہلے ہی مشکلات میں مبتلا ہیں، ایسے وقت میں مہنگائی کی لہر نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔
شہریوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ’’بازاروں میں روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ ہو،من مانے نرخ وصول کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں،بجلی کے شیڈول پر سختی سے عمل کیا جائے ،اشیائے ضروریہ کی سپلائی لائن مستحکم بنائی جائے اور نگران اداروں کی ناقص کارکردگی کا جائزہ لے کر کارروائی کی جائے ‘‘۔
وادی کے عوام اس وقت سردی، بجلی کٹوتی اور مہنگائی کی تین طرفہ مار میں پس کر رہ گئے ہیں، اور اگر انتظامیہ نے فوری قدم نہ اٹھائے تو صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔یو این آئی










