سرینھر/۲۶نومبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ یومِ آئین ہمیں ہر روز اس عہد کی یاد دلانا چاہیے کہ ہم ملک کے بانی دستاویز میں درج برابری اور انصاف کی قدروں کا تحفظ کریں، اور یہ کہ تعلیم میں بڑھتا ہوا مذہبی امتیاز آئین کی اصل روح کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
سرحدی ضلع پونچھ میں جامعیہ ضیاء العلوم کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ یومِ آئین کو ایک رسمی دن بنا کر محدود نہیں کرنا چاہیے۔
وزیرا علیٰ نے کہا ’’آج یومِ آئین منایا جا رہا ہے۔ یومِ آئین کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک گھنٹے کے لیے آئین کو یاد کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال کے ہر دن ہم اسے زندہ رکھیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے نشاندہی کی کہ تمہید تمام مذاہب کو مساوی درجہ دیتی ہے، ہر شہری کو جمہوری حقوق فراہم کرتی ہے اور قانون کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ملک میں ایک ایسا رجحان بڑھ رہا ہے جس میں تعلیمی اداروں کو بھی فرقہ وارانہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
ان کاکہنا تھا’’آج ایک میڈیکل کالج میں یہ کہا جا رہا ہے کہ مسلمان اور غیر ہندو یہاں نہ پڑھیں۔ اگر ہم میرٹ کو ایک طرف رکھ کر مذہب کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں تو پھر آئین کہاں جائے گا؟‘‘
وہ بی جے پی کے اس مطالبے کا حوالہ دے رہے تھے کہ شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لنس کی پہلی داخلہ فہرست منسوخ کی جائے اور نشستیں اْن لوگوں کے لیے مخصوص کی جائیں جو دیوی (ماتا ویشنو دیوی) پر ایمان رکھتے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت بھڑکا جب ۵۰؍ ایم بی بی ایس نشستوں کی پہلی فہرست میں ۴۲ مسلمان طلبہ کا انتخاب کیا گیا، جس پر دائیں بازو کے ہندو گروہوں نے احتجاج کیا۔
جامعہ کے طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے قومی ترانے اور حب الوطنی کے گیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’کاش وہ لوگ جو ایسے مذہبی اداروں کے خلاف زہر پھیلاتے ہیں، یہاں بیٹھ کر یہ پروگرام دیکھتے۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا، ’’وہ یہ پروپیگنڈا پھیلانے سے نہیں تھکتے کہ ان اداروں میں نفرت اور فرقہ واریت کے سوا کچھ نہیں پڑھایا جاتا… ان اداروں میں مذہب کے علاوہ کسی چیز پر توجہ نہیں دی جاتی۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ مذہبی اسکولوں کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں انہیں یہاں آکر ان بچوں سے ملنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ ان اداروں میں کس قسم کی تعلیم دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا ’’مذہب بھلایا نہیں جاتا؛ مذہب پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن مذہب کے ساتھ، وہ کون سی چیز ہے جو یہاں بچوں کو نہیں پڑھائی جا رہی؟‘‘
اسکول کی جانب سے منعقدہ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کوئی سرکاری تقریب نہیں تھی، اور اگر وہ چاہتے تو اسے نہیں کرتے کیونکہ آئین کی تمہید پڑھنے کی کوئی مجبوری نہیں تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’کاش وہ لوگ جو نفرت پھیلا رہے ہیں، یہاں آ کر ایک دن گزاریں۔ شاید انہیں سمجھ آجائے کہ جھوٹ پھیلا کر جو زہر ہمارے خلاف بویا جا رہا ہے، وہ ملک کے ساتھ وفاداری نہیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ جو لوگ دوسروں کو آئینی قدروں پر لیکچر دیتے ہیں انہیں ادارے کی ہم آہنگی میں کردار پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔انہوں نے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ خصوصاً جامعہ کے بانی مولانا غلام قادر کی تعریف کی کہ وہ ہمیشہ بھائی چارے اور نازک حالات میں امن کے لیے کھڑے رہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’جب کبھی حالات حساس ہوئے یا کوئی قدرتی آفت آئی، قادر صاحب اور یہ ادارہ سب سے پہلے حکومت کی مدد کے لیے کھڑے ہوئے۔ندائے مشرق ویب ڈیسک‘‘










