واشنگٹن، 22 نومبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو امریکی امن منصوبے کو قبول کرنے کے لیے 27 نومبر کی ڈیڈ لائن دے دی۔
غیر ملکی میڈیا روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کو قبول کرنے کے مطالبے پر یوکرین ایک ‘مشکل انتخاب’ کا سامنا کر رہا ہے ، امریکی صدر نے اسے جمعرات تک امن معاہدہ قبول کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی اور کہا کہ جمعرات کا دن مناسب ہے ۔
امریکی صدر نے فاکس نیوز ریڈیو کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں جمعرات کا دن کیف کے لیے اس منصوبے کو قبول کرنے کی مناسب آخری تاریخ ہے ، بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ موسمِ سرما کے قریب آنے اور خوں ریزی روکنے کی ضرورت کے پیشِ نظر وقت بہت کم ہے ، اور زیلنسکی کو اس منصوبے کی منظوری دینا ہوگی۔
انھوں نے کہا ”اسے (زیلنسکی کو) یہ پسند کرنا ہوگا، اور اگر اسے پسند نہیں آتا تو پھر آپ جانتے ہیں، میرا خیال ہے کہ انھیں بس لڑتے رہنا چاہیے ۔” ٹرمپ نے کہا ”بالآخر اسے وہ چیز قبول کرنا ہوگی جسے اس نے اب تک قبول نہیں کیا۔”
واشنگٹن کے 28 نکاتی منصوبے میں یوکرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دے ، اپنی فوجی صلاحیتوں پر پابندیاں قبول کرے اور نیٹو میں شامل ہونے کی خواہش سے دست بردار ہو جائے ۔ اس میں کچھ ایسی تجاویز بھی شامل ہیں جن پر ماسکو کو اعتراض ہو سکتا ہے اور اس منصوبے کے مطابق روسی افواج کو ان علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا جن پر انھوں نے قبضہ کیا ہے ۔
فروری میں زیلنسکی کے ساتھ اپنے تناؤ بھرے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا: ”آپ کو یاد ہوگا، زیادہ عرصہ نہیں گزرا، اوول آفس میں میں نے کہا تھا: ”تمھارے پاس کارڈز نہیں ہیں۔”
دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس کو یوکرین جنگ بندی کے پر امن حل کے لیے امریکی تجاویز موصول ہو گئی ہیں، انھوں نے کہا کہ اس متن پر ان کے ساتھ بات چیت نہیں کی گئی ہے ، اور میں جانتا ہوں کہ کیوں، وجہ ظاہر ہے کہ امریکا اس پر یوکرین کی طرف سے رضامندی حاصل نہیں کر سکا ہے ۔
تاہم ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ تنازع کے پرامن حل کی بنیاد ہو سکتا ہے ، اور اس منصوبے کی تفصیلات پر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔








