پیر, ستمبر 7, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home سچ تو یہ ہے

۲۰ فیصد اضافی ’ٹیکس‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-22
in سچ تو یہ ہے
A A
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

وزیر اعلیٰ کی صفائی

اس سے بھی آگے جہاں اور ہے

غصہ کیوں ہو رہے ہیں آپ … غصہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیںہے…آپ تھوڑا پانی پی لیجئے‘ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈاپانی پی لیجئے اور غصے کو تھوک دیجئے… ہوتا ہے … ایسا ہوتا ہے… اور اگر کشمیر میں نہیں ہو گا تو پھر کہاں ہو گا… یہ سب کچھ کشمیر میں ہی ہونا ہے‘ کسی اور جگہ نہیں … بالکل بھی نہیں کہ تجربہ گاہ تو کشمیر ہے… کسی اور جگہ‘ کسی اور ریاست میں نہیں نا ہے… اس لئے تمام حربے ‘ تمام باتیں اِدھر ہی اپنے کشمیر میں ہی آزمائیں جاتی ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا… اوراسی کڑی کے تحت اگر محکمہ بجلی نے شام کے اوقات میں بجلی کے استعمال پر ۲۰ فیصد سرچارج( اضافی قیمت) کی تجویز پیش کی ہے تو… تو اس پر غصہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے… ایسا ہونا تھا اور اس لئے ہونا تھا کہ لوگ ۲۰۰ مفت یونٹوں کی بات نہ کریں… اب بات نہ کریں اور سیدھا وہاں سے اس بیانیہ کا رخ ۲۰ فیصد اضافی قیمت کی طرف موڈا جائے اور… اور دیکھ لیجئے کہ مڑ گیا نا… اب کوئی ۲۰۰ مفت بجلی یونٹوں کی بات نہیں کرے گا… کوئی حکومت سے یہ مطالبہ نہیں کرے گا … کوئی حکومت کو یہ وعدہ یاد نہیں دلائے گا بلکہ سب کے سب ہول سیل میں غصہ کریں … اس بات پر غصہ کریں گے کہ وہ شام کے اوقات میں ۲۰ فیصد اضافی قیمت کیوں دیں گے …کس اصول کے تحت دیں گے… شام کے وقت بھی لوگوں کو جو بجلی فراہم کی جاتی ہے… اگر فراہم کی جاتی ہے تو… تو اس کی پیداواری لاگت بھی وہی ہے جو دن میں فراہم ہونے والی بجلی کی ہے تو… تو شام کے وقت اضافی قیمت کیوں؟شام کے وقت تو ٹی وی چینلز اشتہارات کی زیادہ ریٹ لیتے ہیں کیوں کہ اس وقت زیادہ تعداد میں لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں… اس لئے اشتہارات زیادہ سے زیادہ دیکھنے والوں تک…لوگوں تک پہنچ جاتا ہے… لیکن صاحب بجلی کے ساتھ تو ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… ہاں شام کے وقت بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے … کیوں کہ ٹھنڈ زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ تر لوگ گھروں میں ہی ہو تے ہیں… اگر حکومت ٹھنڈ اور لوگوں کے گھروں میں بیٹھنے کی وجہ سے ان پر یہ ’ٹیکس ‘ عائد کرنا چاہتی ہے تو… تو کرے … وہ اس کو بھی آزما کے دیکھے‘ کشمیر میں دیکھ لے… کشمیر میں نہیں تو پھر کہاں کہ کشمیر تو تجربہ گاہ ہے ۔ ہے نا؟

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

محکمہ بجلی کی صارفین پر بجلی گرانے کی تجویز

Next Post

کشمیر میں اردو صحافت کا بحران: زوالِ زبان یا زوالِ ترجیحات؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

وزیر اعلیٰ کی صفائی

2026-09-06
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

اس سے بھی آگے جہاں اور ہے

2026-09-05 - Updated on 2026-09-06
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

سیاست: کشمیر کی سیاست!

2026-09-04
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

یہ تو غلط بات ہے!          

2026-09-03
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

پہلے بجلی ہو تو سہی!

2026-09-02
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

وعدے اور دعوے!                

2026-09-01
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

بیل آیا اور مار کے چلا بھی گیا !

2026-08-30
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

جھوٹ بولے، کوا کاٹے

2026-08-29
Next Post
آگ سے متاثرین کی امداد

کشمیر میں اردو صحافت کا بحران: زوالِ زبان یا زوالِ ترجیحات؟

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.