غصہ کیوں ہو رہے ہیں آپ … غصہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیںہے…آپ تھوڑا پانی پی لیجئے‘ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈاپانی پی لیجئے اور غصے کو تھوک دیجئے… ہوتا ہے … ایسا ہوتا ہے… اور اگر کشمیر میں نہیں ہو گا تو پھر کہاں ہو گا… یہ سب کچھ کشمیر میں ہی ہونا ہے‘ کسی اور جگہ نہیں … بالکل بھی نہیں کہ تجربہ گاہ تو کشمیر ہے… کسی اور جگہ‘ کسی اور ریاست میں نہیں نا ہے… اس لئے تمام حربے ‘ تمام باتیں اِدھر ہی اپنے کشمیر میں ہی آزمائیں جاتی ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا… اوراسی کڑی کے تحت اگر محکمہ بجلی نے شام کے اوقات میں بجلی کے استعمال پر ۲۰ فیصد سرچارج( اضافی قیمت) کی تجویز پیش کی ہے تو… تو اس پر غصہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے… ایسا ہونا تھا اور اس لئے ہونا تھا کہ لوگ ۲۰۰ مفت یونٹوں کی بات نہ کریں… اب بات نہ کریں اور سیدھا وہاں سے اس بیانیہ کا رخ ۲۰ فیصد اضافی قیمت کی طرف موڈا جائے اور… اور دیکھ لیجئے کہ مڑ گیا نا… اب کوئی ۲۰۰ مفت بجلی یونٹوں کی بات نہیں کرے گا… کوئی حکومت سے یہ مطالبہ نہیں کرے گا … کوئی حکومت کو یہ وعدہ یاد نہیں دلائے گا بلکہ سب کے سب ہول سیل میں غصہ کریں … اس بات پر غصہ کریں گے کہ وہ شام کے اوقات میں ۲۰ فیصد اضافی قیمت کیوں دیں گے …کس اصول کے تحت دیں گے… شام کے وقت بھی لوگوں کو جو بجلی فراہم کی جاتی ہے… اگر فراہم کی جاتی ہے تو… تو اس کی پیداواری لاگت بھی وہی ہے جو دن میں فراہم ہونے والی بجلی کی ہے تو… تو شام کے وقت اضافی قیمت کیوں؟شام کے وقت تو ٹی وی چینلز اشتہارات کی زیادہ ریٹ لیتے ہیں کیوں کہ اس وقت زیادہ تعداد میں لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں… اس لئے اشتہارات زیادہ سے زیادہ دیکھنے والوں تک…لوگوں تک پہنچ جاتا ہے… لیکن صاحب بجلی کے ساتھ تو ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… ہاں شام کے وقت بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے … کیوں کہ ٹھنڈ زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ تر لوگ گھروں میں ہی ہو تے ہیں… اگر حکومت ٹھنڈ اور لوگوں کے گھروں میں بیٹھنے کی وجہ سے ان پر یہ ’ٹیکس ‘ عائد کرنا چاہتی ہے تو… تو کرے … وہ اس کو بھی آزما کے دیکھے‘ کشمیر میں دیکھ لے… کشمیر میں نہیں تو پھر کہاں کہ کشمیر تو تجربہ گاہ ہے ۔ ہے نا؟




