ہم نے سنا… وہ سب سنا جو اپنے آغاروح اللہ سنانا چاہتے تھے… عمرعبداللہ کو سنانا چاہتے تھے … آغا روح اللہ نے جو کچھ کہا آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں یااتفاق … ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… لیکن… لیکن اگر ہمیں کسی چیز سے مطلب ہے‘ کسی میں دلچسپی ہے تو… تو اس ایک بات میں ہے کہ… کہ اب آئے گا مزہ … وہ کیا ہے کہ کشمیر کی سیاست میں کچھ مزہ نہیں آرہا تھا … اپوزیشن کے نام پر پی ڈی پی ایک مذاق تھا اور… اورا س لئے تھا کہ کہاں چالیس بیالیس سیٹیں اور کہاں تین چار… چار تو ابھی ہوئی ہیں‘ بڈگام کے بعد ہوئی ہیں… پہلے تو تین ہی تھیں… اس لئے اللہ میاں کی قسم کوئی مزہ نہیں آرہا تھا… سجاد لون صاحب اس خلاء کو پر کرنے کی کوشش کررہے تھے…لیکن خلاء اتنا زیادہ تھا کہ ان سے بھی کچھ ہو نہیں پارہا تھا… لاکھ کوششوں کے بعد بھی نہیں ہو پا رہا تھا… لیکن… لیکن اب نہیں … اب یہ صورتحال نہیں ہے… اور اس لئے نہیں ہے کہ روح اللہ کی باتوں سے اگر کوئی ایک بات سامنے آ رہی تھی تو… تو وہ یہ بات آ رہی تھی کہ ان جناب نے ساری کی ساری کشتیوں کو جلا ڈالا ہے… انہیں آگ لگا دی ہے‘ انہیں نذر آتش کر دیا ہے… اور … اور اب مفاہمت کی کوئی گنجائش نہیں ہے… گنجائش نہیں ہو سکتی ہے…لگا تھا… ہمیں پہلے پہل لگا تھا کہ شاید عمرعبداللہ اور روح اللہ’گڈ کاپ، بیڈ کاپ‘ کھیل رہے ہیں… لیکن نہیں اب نہیں … اب بات اس سے زیادہ بڑھ گئی ہے… آگے بڑھ گئی ہے… یہ ’گڈ کاپ، بیڈ کاپ ‘ تک محدود نہیں رہی … بالکل بھی نہیں رہی … اس لئے اب مزہ آئیگا کہ… کہ کوئی تو ہے جو ٹکر دے گا … عمرعبداللہ کو ٹکر دے گا… کہ جب اپنا کوئی ٹکر دینے پر آتا ہے تو… تو چکر آتا ہے اور… اور عمرعبداللہ کو بھی یہ چکر آنے والا ہے … اور یہ بات روح اللہ جانتے ہیں… جانتے ہیں کہ وہ عمرعبداللہ کو ٹکر دے سکتے ہیں…انہیں اس بات کا اعتماد ہے ‘ یقین ہے… اور اس حد تک اعتماد اور یقین ہے کہ اتوار کو انہوں نے جو کچھ بھی کہا… وہ سارا عمرعبداللہ کے بارے میں کہا… کسی اور کے بارے میں نہیں کہا … لیکن… لیکن اس دوران انہوں نے ایک بار بھی نہیں… جی ہاں ایک بار بھی عمرعبداللہ کا نام نہیں لیا … یا ان کا نام تک لینا پسند نہیں کیا ۔ہے نا؟




