فارنسک ٹیم’’انتہائی احتیاط‘ سے کام کررہی تھی‘ احتیاط کے باوجود نمونے لینے کے دوران حادثاتی دھماکہ ہو ا:پربھات
نئی دہلی/سرینگر/۱۵نومبر
مرکزی وزارتِ داخلہ نے جموں و کشمیر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں جمعہ کی رات ہوئے دھماکے کو ایک افسوسناک حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ضبط شدہ دھماکہ خیز مواد اور کیمیکلز کو جانچ کے لیے بھیجے جانے سے قبل ہوا، جس کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، لہٰذا اس بارے میں غیر ضروری قیاس آرائیاں نہیں کرنی چاہئیں۔
اس افسوسناک واقعے میں نو افراد کی موت ہوگئی اور ۲۷پولیس اہلکار، دو ریونیو افسر اور تین دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ داخلہ میں جوائنٹ سکریٹری (جموں و کشمیر) پرشانت لو کھنڈے نے ہفتہ کو نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ جمعہ کی رات۱۱بجکر ۲۰منٹ پر جموں و کشمیر کے نوگام پولیس اسٹیشن کے اندر ایک بڑا دھماکہ ہوا۔
لوکھنڈے نے کہا کہ نوگام پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے وہاں حال ہی میں لگائے گئے ایک پوسٹر سے ملی معلومات کی بنیاد پر ایک دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش کیا تھا۔
اس سلسلے میں درج ایف آئی آر ۲۰۲۵/۱۶۲کی تحقیقات کے دوران دھماکہ خیز مواد اور کیمیکلز کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا گیا تھا۔ برآمد شدہ مواد کو پولیس اسٹیشن کے کھلے حصے میں محفوظ طریقے سے رکھا گیا تھا۔
لو کھنڈے نے بتایا کہ تحقیقات میں شامل تمام ایجنسیاں مربوط اور سائنسی انداز میں کام کر رہی تھیں اور طے شدہ طریقۂ کار کے تحت برآمد شدہ کیمیائی اور دھماکہ خیز نمونے مزید فارنسک اور کیمیائی جانچ کے لیے بھیجے جا رہے تھے ۔ بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کے بعد یہ عمل گزشتہ دو دنوں سے مسلسل طے شدہ پروٹوکول کے مطابق جاری تھا۔
جوائنٹ سیکریٹری نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کی غیر مستحکم اور حساس نوعیت کے سبب اسے ماہرین کی نگرانی میں احتیاط سے سنبھالا جا رہا تھا لیکن اسی دوران گزشتہ رات اچانک حادثاتی طور پر دھماکہ ہو گیا۔
اس المناک حادثے میں نو افراد کی موت ہوگئی اور ۲۷پولیس اہلکار، دو ریونیو افسر اور تین دیگر لوگ زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
لوکھنڈے نے کہا کہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور آس پاس کی عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے دیگر قیاس آرائیاں غیر ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس غم کی گھڑی میں مرنے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے ۔
دریں اثناجموںکشمیر کے پولیس سربراہ (ڈی جی پی) نلن پربھات نے ہفتہ کو کہا کہ نوگام پولیس اسٹیشن میں گزشتہ رات ہونے والے دھماکے میں نو افراد جاں بحق اور ۳۰ سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ اْن دھماکہ خیز مواد کی فارنسک جانچ کے دوران ہوا جو حالیہ ایک کیس میں ضبط کیا گیا تھا۔
سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی نے بتایا کہ دھماکہ جمعہ کی رات تقریباً ۱۱ بجکر ۲۰ منٹ پر اس وقت ہوا جب ایف ایس ایل کی ٹیم ضبط شدہ دھماکہ خیز مواد، کیمیکلز اور ری ایجنٹس کا نمونہ لینے میں مصروف تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مواد ایف آئی آر نمبر۱۶۲/۲۰۲۵ کے تحت اسی ماہ نو اور دس نومبر کو فریدآباد سے برآمد کیا گیا تھا۔
پربھات نے کہا کہ ضبط شدہ سامان کو طریقہ ٔ کار کے مطابق پولیس اسٹیشن کے کھلے حصے میں محفوظ رکھا گیا تھا۔ ’’ریکوری کا حجم بہت زیادہ تھا، اس لیے ایف ایس ایل ٹیم گزشتہ دو روز سے نمونے لینے کا عمل جاری رکھے ہوئے تھی۔‘‘
ڈی جی پی نے زور دیا کہ یہ مواد ’’انتہائی غیر مستحکم اور حساس‘‘ تھا، اور فارنسک ٹیم اسے ’’انتہائی احتیاط‘‘ سے ہینڈل کر رہی تھی۔ ان احتیاطوں کے باوجود نمونے لینے کے دوران ایک حادثاتی دھماکہ ہو گیا۔
پولیس سرنراہ نے کہا کہ ’’اس واقعے کی وجہ سے متعلق کوئی بھی قیاس آرائی غیر ضروری ہے۔‘‘
ہلاکتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے پربھات نے کہا کہ نو اہلکار جاں بحق ہوئے، جن میں اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کا ایک افسر، ایف ایس ایل ٹیم کے تین ارکان، دو کرائم فوٹوگرافر، دو ریونیو اہلکار جو مجسٹریٹ ٹیم کا حصہ تھے، اور ایک درزی شامل ہے جو ان کے ساتھ وابستہ تھا۔
پربھات نے کہا کہ۲۷ پولیس اہلکار، دو ریونیو اہلکار اور قریبی رہائشی علاقے کے تین شہری زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو فوراً اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ آس پاس کی کئی دیگر عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔ ’’نقصان کی مکمل حد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا اور یہ بھی بتایا کہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا، ’’اس غم کی گھڑی میں جموں و کشمیر پولیس شہدا کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘










