نئی دہلی/۱۳نومبر
ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب جس کار میں دھماکہ ہوا تھا اسے ڈاکٹر عمر نبی چلا رہا تھا، کیونکہ اس کے اسٹیئرنگ وہیل میں پائے گئے پیر کے حصے اور نبی کی ماں کے ڈی این اے کے نمونے نبی کی والدہ سے ملتے ہیں۔
دہلی پولیس کے مطابق نبی کی والدہ کے ڈی این اے کے نمونے اور نبی کے پاؤں کے ڈی این اے میچ ہورہے ہیں۔ تفتیش کاروں نے یہ کامیابی اس وقت ملی جب ڈاکٹر نبی کا پیرکار کی اسٹیئرنگ وہیل اور ایکسلریٹر کے درمیان پھنسا ہوا پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دھماکے کے وقت کار چلا رہا تھا۔
ایک پولیس افسر نے کہا’’کل۲۱حیاتیاتی نمونے فارنزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کو جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے ۔ لال قلعہ دھماکے میں مرکزی ملزم سمیت کل۱۲؍افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ بقیہ نمونے دیگر متاثرین کی حیاتیاتی باقیات اور قریبی تباہ شدہ گاڑیوں، دھماکے سے متاثر ہونے والی گاڑیوں اور ایک ای رکشہ سے حاصل کیے گئے تھے ‘‘۔
ایف ایس ایل نے ڈاکٹر نبی کی شناخت کی تصدیق کے لیے اس کی والدہ سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے ۔ وہ ۱۰نومبر کی شام لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں شامل کار چلا رہا تھا، جس میں۱۲؍افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔










