سرینگر/۱۳نومبر
دہلی کے لال قلعے کے قریب ہوئے دھماکے اور فریدآباد میں برآمد ہونے والے بارودی مواد کی تفتیش میں مصروف تحقیقاتی ایجنسیوں کو بڑی کامیابی ملی ہے۔
این ڈی ٹی وی نے ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹر شاہین سعید کا تعلق جیشِ محمد سے تھا اور وہ پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ عمر فاروق کی اہلیہ افراح بی بی سے رابطے میں تھی۔
عمر فاروق، جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا تھا، جو۲۰۱۹ کے پلوامہ حملے کے بعد ہونے والے ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا۔ اس حملے میں سی آر پی ایف کے ۴۰ جوان مارے گئے تھے ۔
رپورٹ کے مطابق عمر فاروق کی بیوی افراح بی بی جیشِ محمد کی نئی خواتین ونگ ’جماعت المومنات‘کی ایک اہم رہنما ہے۔ دھماکے سے کچھ ہفتے پہلے افراح بی بی اس ونگ کی مشاورتی کونسل ’شوریٰ‘ میں شامل ہوئی تھی۔ وہ مسعود اظہر کی چھوٹی بہن صادیہ اظہر کے ساتھ کام کر رہی تھی، اور دونوں کا رابطہ ڈاکٹر شاہین سعید سے تھا۔
فریدآباد کی الفلاح یونیورسٹی میں سینئر ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے والی شاہین سعید کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس کی کار سے خودکار رائفلیں اور دیگر گولہ بارود برآمد ہوا۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ شاہین سعید کو بھارت میں’جماعت المومنات‘کا نیٹ ورک قائم کرنے اور انتہاپسند نظریات رکھنے والی خواتین کی بھرتی کا کام سونپا گیا تھا۔
شاہین سعید کا تعلق لکھنؤ سے ہے۔ اس نے مختلف میڈیکل کالجوں میں خدمات انجام دینے کے بعد الفلاح یونیورسٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تحقیقات کے مطابق وہ ستمبر ۲۰۱۲ سے دسمبر ۲۰۱۳ تک کانپور کے ایک میڈیکل کالج میں شعبہ فارماکولوجی کی سربراہ رہی۔ اس کے پاسپورٹ سے پتا چلا ہے کہ وہ ۲۰۱۶ سے ۲۰۱۸ تک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مقیم رہی۔
اس کے ساتھیوں نے بتایا کہ وہ اکثر بغیر اطلاع دیے کام سے غیر حاضر رہتی تھی۔
شاہین سعید کی شادی ڈاکٹر حیات ظفر سے ہوئی تھی لیکن ۲۰۱۲ میں دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ ان کے دو بچے ہیں جو اپنے والد کے ساتھ رہتے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ علیحدگی کے بعد ان کا کوئی رابطہ نہیں رہا۔انہوں نے کہا، ’’وہ خاص مذہبی نہیں تھی بلکہ ایک لبرل سوچ رکھتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم آسٹریلیا یا یورپ میں جا کر بسیں۔ اسی بات پر اختلاف ہوا اور ہم الگ ہوگئے۔ میرے بچے اس سے بات نہیں کرتے۔ وہ پلمنالوجی کی پروفیسر تھی اور اس نے ۲۰۰۶ میں اپنی ڈگری مکمل کی تھی‘‘۔
شاہین کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ ان کی بیٹی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق شاہین اکثر کلاسوں سے غیر حاضر رہتی تھی اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اس کے خلاف شکایات بھی ملی تھیں۔ وہ کالج کی کور کمیٹی کی رکن بھی تھی۔
تحقیقات کاروں نے اب یونیورسٹی سے اس کی حاضری کا ریکارڈ طلب کیا ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ وہ کن دنوں تدریسی سرگرمیوں میں شریک تھی۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شاہین، ڈاکٹر مزمل اور ڈاکٹر عمر تینوں الفلاح یونیورسٹی میں کام کر رہے تھے۔
شاہین اور مزمل حراست میں ہیں جبکہ ڈاکٹر عمر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ پیر کو لال قلعے کے قریب کار دھماکے میں مارا گیا جس میں ۱۳؍ افراد ہلاک اور۲۰ زخمی ہوئے۔ندائے مشرق ویب ڈیسک










