نئی دہلی/۱۲نومبر
لال قلعہ کے نزدیک پیر کی شام پیش آنے والے خوفناک دھماکے میں کم از کم نو افراد جاں بحق اور درجن بھر زخمی ہوئے۔ بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی سلامتی کمیٹی نے اس واقعے کو ’’سنگین دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا۔
اجلاس میں وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر سینئر وزراء و افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں متاثرین کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جس کے بعد حملے کی مذمت میں باضابطہ قرارداد منظور کی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ’’یہ ایک بزدلانہ اور سفاک کارروائی ہے جسے ملک دشمن عناصر نے انجام دیا۔‘‘ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کسی بھی شکل میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔
بیان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی گئی۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات ظاہر کی گئیں جبکہ طبی عملے اور امدادی کارکنوں کی فوری کارروائی اور فرض شناسی کو سراہا گیا۔
وزیر اعظم کی کابینہ نے دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور ہدایت دی کہ تحقیقات انتہائی سنجیدگی، پیشہ ورانہ مہارت اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھائی جائیں تاکہ ملوث عناصر، ان کے معاونین اور پشت پناہوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
دھماکہ۱۰ نومبر کی شام نیتاجی سبھاش مارگ پر لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب اْس وقت ہوا جب ایک سفید ہنڈائی آئی ۰۲ کار میں زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں متاثر ہوئیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق کار ڈاکٹر عمر محمد چلا رہا تھا، جو ۳۲ سالہ میڈیکل پروفیشنل ہے اور ماضی میں فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ رہ چکا ہے۔ پولیس اور تفتیشی ایجنسیاں اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہیں۔










