نئی دہلی، 12 نومبر (یو این آئی ) قبائلی امور کے وزیرِ مملکت دُرگاداس اُئیکے نے بدھ کے روز کہا کہ جغرافیائی شناخت (GI) ٹیگ کی طرز پر قبائلی مصنوعات کے لیے ایک خصوصی ٹیگ متعارف کرایا جانا چاہیے تاکہ ان مصنوعات کو ایک منفرد شناخت حاصل ہو سکے ۔
مسٹر اُئیکے نے دہلی کے دوارکا میں واقع ‘یشو بھومی’میں منعقدہ قبائلی کاروباری کانفرنس (Tribal Business Conclave) کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ”یہ صرف ایک کانفرنس نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے جو قبائلی برادری کو اقتصادی خودکفالت اور بازار تک رسائی دلانے کی سمت میں ایک انوکھا قدم ہے ۔”انہوں نے کہا،”جیسے کسی مصنوعات کو جغرافیائی شناخت دلانے کے لیے جی آئی ٹیگ دیا جاتا ہے ، اسی طرح ایک ٹیگ ٹرائبل انڈیکیٹر ٹیگ (Tribal Indicator Tag) کی شروعات ہونی چاہیے ۔یہ ٹیگ اُن مصنوعات کے لیے ہوگا جو قبائلی برادری کے افراد تیار کرتے ہیں۔
ایک روزہ کانفرنس میں 250 سے زیادہ قبائلی صنعت کاروں نے شرکت کی، جن میں 111 اسٹارٹ اپس شامل تھے ۔
ان صنعت کاروں نے روایتی مصنوعات کے ساتھ ساتھ جدید مصنوعات کی بھی نمائش کی۔کئی کاریگر اور صنعت کار ملک کے دور دراز علاقوں سے آئے تھے ۔ مسٹر اُئیکے نے کہا کہ جی آئی ٹیگ اور ایک ضلع، ایک پروڈکٹ (One District One Product) اسکیم کے ذریعے قبائلی مصنوعات کو خصوصی شناخت ملی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے ذریعے کارپوریٹ دنیا کو قبائلی برادریوں سے جوڑا گیا ہے ۔مزید کہا کہ ون دھن وکاس یوجنا (Van Dhan Vikas Yojana) کے تحت 55 لاکھ سے زیادہ قبائلی خاندانوں کو روزگار کے وسائل ملے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مودی حکومت قبائلی ہیروز، مجاہدینِ آزادی اور قبائلی رہنماؤں کو عزت و احترام دلانے اور انہیں قومی فخر سے جوڑنے کا کام کر رہی ہے ۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ”قبائلی لوگ فطرت سے صرف اتنا ہی لیتے ہیں جتنی انہیں ضرورت ہوتی ہے ۔وہ دوسروں کے وسائل یا دولت پر نظر نہیں رکھتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ندیوں کی آلودگی، ہوا کی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں میں 12.5 کروڑ قبائلی عوام کا کوئی کردار نہیں ہے ۔اندرہ گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (IGNCA) کے سیکریٹری سچدانند جوشی نے کہا کہ”ہمیں قبائلی دستکاری، ہنر اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کرنے ہوں گے ۔
کاپی رائٹ اور انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) کے ذریعے ان کی حفاظت پر غور ہونا چاہیے ۔






