نئی دہلی، 12 نومبر (یواین آئی) ہندوستان، جاپان اور امریکہ کے ساتھ مالابار مشق میں آسٹریلیا بھی شامل ہوگیا ہے ۔ یہ ایک بڑی بحری مشق ہے جو ہند بحرالکاہل کے خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کی عکاسی کرتی ہے ۔
اس مشق کو علاقائی شراکت داروں کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانے اور سمندری ڈومین میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔
سرکاری ذرائع نے کہا، "مالابار مشق آسٹریلیا اور ہمارے ساتھی ممالک کو مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے ، اجتماعی صلاحیتوں کو ہم آہنگ کرنے اور عالمی رابطوں میں پائے جانے والے خلاء کو دور کرکے ہند-بحرالکاہل کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے قابل بناتی ہے ۔”
چیف آف جوائنٹ آپریشنز، وائس ایڈمرل جسٹن جونز اے او، ایس ایس سی، آراے این نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے چیلنجز تیزی سے تیار ہو رہے ہیں، جس سے شراکت داری اور مشترکہ مشقیں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
آسٹریلیا کے چیف آف جوائنٹ آپریشنز وائس ایڈمرل جسٹن جونز نے کہا، "مشق مالابار کے ذریعے ، ہم مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے ، اجتماعی طاقت کو ہم آہنگ کرنے ، اور تیاری کو بڑھا کر ہند-بحرالکاہل کی سلامتی کو مضبوط کر رہے ہیں۔”
وائس ایڈمرل جونز نے مزید کہا، "آبدوز شکن جنگ، فضائی دفاع اور سمندری پیچیدہ مشقوں کے ذریعے حصہ لینے والے ممالک ہمارے مشترکہ سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اعتماد، انٹر آپریبلٹی اور تیاری کو فروغ دیتی ہیں۔”
یہ مشق 10 سے 18 نومبر تک ویسٹرن پیسیفک ٹریننگ ایریا میں ہوگی۔
ہندوستان کی آتم نر بھر بھارت’ پہل کے تحت بنایا گیا گائیڈڈ میزائل اسٹیلتھ فریگیٹ کی صلاحیت کے ساتھ ہندوستانی بحریہ کا جہاز آئی این ایس سہیادری اس مشق میں شامل ہوا۔ اس میں بندرگاہ کے مرحلے میں آپریشنل پلاننگ، کمیونیکیشن الائنمنٹ اور کھیل کود مشقیں شامل ہوں گی۔ اس کے بعد آبدوز شکن جنگ، توپ خانے اور مشترکہ بیڑے کی کارروائیوں میں سمندری مرحلے کی مشقیں کی جائیں گی۔
حصہ لینے والی آسٹریلوی افواج میں اینزیک کلاس کا فریگیٹ ایچ ایم اے ایس بیلاریٹ اور آراے اے ایف پی-8 اے پروسائڈن سمندری گشتی طیارہ شامل ہے ، جس میں پروسائڈن گوام میں اینڈرسن ایئر فورس بیس سے آپریٹ ہوگا۔
یہ مشق پہلی بار 1992 میں ہند-امریکہ کے سالانہ دو طرفہ تربیتی مشق کے طور پر منعقد کی گئی تھی اور اب یہ ایک اہم چار فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ (کواڈ) میری ٹائم سرگرمی میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ کواڈ کوئی فوجی اتحاد نہیں ہے ، لیکن یہ مشق میری ٹائم سکیورٹی اور نیویگیشن کی آزادی کو فروغ دیتی ہے ۔
اردو اکادمی دہلی ڈراما فیسٹول : ”پہلے آپ” کی شاندار پیشکش
نئی دہلی،12 نومبر(یو این آئی) اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام چھ روزہ 35واں اردو ڈراما فیسٹول منڈی ہاؤس کے شری رام سینٹر میں 10 سے 15 نومبر تک جاری ہے ۔
فیسٹول کے دوسرے روز11 نومبر کو لکھنؤ کے پس منظر میں ڈراما ”پہلے آپ” پیش کیا گیا، جو ایک طنزیہ اور تہذیبی نوعیت کا ڈراما ہے ۔یہ ڈراما لکھنؤ کے روایتی آداب، تہذیب اور ثقافتی پہلوؤں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔ ڈراما کے ڈائریکٹر افتخار عالم نے ”پہلے آپ” کی اصطلاح کو کہانی کے مرکزی خیال سے جوڑتے ہوئے لکھنؤ کی اُس معاشرتی روایت کو پیش کیا ہے جہاں لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کو تعظیماً پہلے موقع دینے کے قائل رہے ہیں۔
ان مُکت یوتھ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام امان احمد کی ہدایت میں پیش کیے گئے اس ڈرامے میں لکھنؤ کی تہذیبی نزاکت اور مزاحیہ اداکاری کے امتزاج نے ناظرین کو بے حد محظوظ کیا۔ کہانی فرقہ پرستی کی آگ میں جلتی ہوئی لکھنؤ کی گنگا جمنی تہذیب اور معاشرتی اتحاد کو تباہ کرنے کی سازش کو بے نقاب کرتی ہے ۔
کہانی، لکھنؤ کے دو دوستوں، رائے صاحب اور نواب صاحب کے گرد گھومتی ہے ، جن کی دوستی گنگا جمنی تہذیب کی عکاس ہے ۔ ایک ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور روایتی کھیلوں میں حصہ لینا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے ، مگر دو شرپسند عناصر کی سازش کے باعث ان کے درمیان غلط فہمی پیدا کر دی جاتی ہے ۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مفاد پرست عناصر کس طرح ملک کی سماجی ہم آہنگی اور سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اگرچہ دونوں دوست لڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، مگر اپنی مخصوص لکھنوی شائستگی کے ساتھ وہ اس لڑائی کو ایک دلچسپ اور مزاحیہ رنگ دے دیتے ہیں۔ دونوں پہلے بیٹھ کر شطرنج کھیلتے ہوئے اطمینان سے اپنی لڑائی کے اصول طے کرتے ہیں اور یوں لڑائی کا آغاز ہوتا ہے ۔ آخر میں دونوں دوست ”پہلے آپ” کے تہذیبی انداز میں لڑائی کو انجام تک پہنچاتے ہیں، جبکہ شرپسند عناصر اپنی ناکامی کے ساتھ واپس لوٹ جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ”پہلے آپ” نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، رواداری اور تہذیبی احترام کا سبق بھی دیتا ہے ۔۔ فنکاروں نے اپنی دلکش اداکاری اور لکھنؤ کی شائستہ زبان و بیان سے اس پیشکش کو یادگار بنا دیا۔









