نئی دہلی/۱۰ نومبر
’جموں و کشمیر میں پتھراؤ کوئی معمولی کارروائی نہیں ہے‘، سپریم کورٹ نے پیر کے روز یہ ریمارک دیتے ہوئے کشمیری علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ سے کہا کہ وہ اپنا حراستی حکم نامہ حاصل کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت سے رجوع کریں۔
جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ ناتھ پر مشتمل بنچ نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو شبیر شاہ کے تازہ حلف نامے پر جواب دینے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا، جب کہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے نئے بیان کردہ حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے پاکستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے روابط پر زور دیا۔
سینئر وکیل کولن گونزالویس، جو شبیر شاہ کی پیروی کر رہے تھے، نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خاندان کو حراستی حکم نامہ فراہم نہیں کیا گیا اور وہ ۱۹۷۰ سے جاری کیے گئے حراستی احکامات کی تفصیلات چاہتے ہیں۔
مہتا نے اس دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ کے سامنے کبھی نہیں اٹھایا گیا تھا۔
بنچ نے کہا، ’’آپ حکومت سے کہیں کہ وہ آپ کو تفصیلات فراہم کرے۔ ضمانت کی کارروائی میں یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ یہ پچاس سال پرانا معاملہ ہے‘‘۔
گونزالویس نے دلیل دی کہ شبیر شاہ گزشتہ ۳۹ سال سے ایک عام الزام، یعنی تقریروں کے بعد پتھراؤ کے واقعات کی بنیاد پر جیل میں ہیں۔جسٹس مہتا نے تبصرہ کیا، ’’اس ریاست میں پتھراؤ کوئی معمولی کارروائی نہیں ہے۔‘‘
سپریم کورٹ نے اس سے قبل شبیر شاہ کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے مقدمے میں عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
تاہم عدالتِ عظمیٰ نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے شبیر شاہ کی اس عرضداشت پر دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا، جس میں انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے ۱۲ جون کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ شبیر شاہ کے دوبارہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور گواہوں پر اثرانداز ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
شبیر شاہ کو این آئی اے نے ۴ جون ۲۰۱۹ کو گرفتار کیا تھا۔
این آئی اے نے ۲۰۱۷ میں ۱۲؍افراد کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا، جس میں الزام تھا کہ انہوں نے پتھراؤ، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے اور فراہم کرنے کی کوشش کی۔
الزام ہے کہ شبیر شاہ نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند یا عسکری تحریک کو فروغ دینے میں ’’نمایاں کردار‘‘ ادا کیا، عوام کو نعرہ بازی اور علیحدگی کے حق میں اکسایا، ہلاک شدہ عسکریت پسندوں کو ’’شہید‘‘ قرار دے کر ان کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، حوالہ کے ذریعے رقوم وصول کیں اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) تجارت کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے جو مبینہ طور پر تخریبی اور عسکری سرگرمیوں کو ہوا دینے کے لیے استعمال کیے گئے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، لیکن اس پر عوامی نظم، شرافت، اخلاقیات یا کسی جرم پر اکسانے جیسے معقول پابندیاں بھی عائد ہیں۔
عدالت نے کہا، ’’یہ حق اس بہانے استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ ریلیوں کے دوران کوئی شخص اشتعال انگیز تقاریر کرے یا عوام کو ایسی غیر قانونی سرگرمیوں پر اکسائے جو ملک کے مفاد اور سالمیت کے لیے نقصان دہ ہوں۔‘‘
ہائی کورٹ نے۷ جولائی ۲۰۲۳ کے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کے خلاف شبیر شاہ کی اپیل مسترد کر دی تھی، جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے سنگین الزامات کی نوعیت کے پیش نظر شبیر شاہ کی متبادل درخواست… ’’گھر پر نظر بندی‘‘…کو بھی رد کر دیا تھا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ وہ غیر قانونی تنظیم جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (جے کے ڈی ایف پی) کے چیئرمین ہیں۔
ہائی کورٹ نے۲۴ زیرِ التوا مقدمات کی تفصیلی جدول کا بھی جائزہ لیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کئی ایسے فوجداری مقدمات میں ملوث رہے ہیں جن کی نوعیت یکساں ہے اور جو جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کی سازش سے متعلق ہیں۔ (ایجنسیاں)










