جموں/ ۶ نومبر
باقاعدہ تقرری، کم از کم اجرت کے نفاذ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ڈیلی ویجر ملازمین نے آج یہاں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیا، جسے پولیس نے روک دیا اور ان کے رہنما کو حراست میں لے لیا۔
’آل ڈیلی ویجرز جموں کشمیر سنگھرش سمیتی‘ جو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین‘ ڈیلی ریٹڈ ملازمین اور آشا (تسلیم شدہ سماجی صحت کارکن) خواتین کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے، طویل عرصے سے باقاعدہ تقرری، بقایاجات کی ادائیگی اور کم از کم اجرت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سمیتی کے چیئرمین سنی کانت چب کی قیادت میں متعدد محکموں سے وابستہ مرد و خواتین کارکنان نے عمر عبداللہ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کیا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے ’’جائز مطالبات‘‘ پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔
وزیراعلیٰ اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین نے ریزیڈنسی روڈ پر وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا، تاہم پولیس کی بھاری نفری نے انہیں شہیدی چوک پر روک دیا۔
پولیس نے چب کو حراست میں لے لیا، جس کے بعد خواتین کارکنان نے چوک پر دھرنا دیا اور وزیراعلیٰ سے ملاقات کر کے اپنے مطالبات پیش کرنے کی اجازت مانگی۔
حراست میں لیے جانے سے قبل چب نے صحافیوں سے کہا: ’’ہم سینکڑوں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی باقاعدہ تقرری، بڑی تعداد میں کیڑول ورکرز کی اجرتوں کی ادائیگی اور کم از کم اجرت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر حکومت نے اب تک کچھ نہیں کیا۔‘‘
چب نے کہا کہ ’’سینکڑوں مزدوروں کے ساتھ برسوں سے ناانصافی ہو رہی ہے۔ ہم وزیراعلیٰ سے ملاقات کر کے یہی عرض کرنا چاہتے تھے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں۔‘‘
ڈیلی ویجروں کی مستقلی این سی حکومت کا ایک انتخابی وعدہ ہے ۔وزیرا علیٰ عمرعبداللہ کاکہنا ہے کہ انہوں نے چیف سیکریٹری ‘کی سربراہی میں ایک کمیٹی پہلے ہی تشکیل دی ہے جو ڈیلی ویجروں کی مستقلی کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
ندائے مشرق خبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










