ہم سمجھ نہیں رہے ہیں کہ کیا ہماری امیدیں زیادہ بڑھ گئی ہیں یا پھر کم بخت یہ عادت… احتجاج کرنے کی عادت ہم سے چھوٹ نہیں پا رہی ہے … اس لئے ہم سڑکوں پر نکل آتے ہیں…سعدہ کدل میں منگل کو لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کرنے لگے… اس بات پر احتجاج کہ ان کے علاقے میں بجلی ہے اور نہ پانی ہے… اس لئے یہ حضرات سڑکوں پر نکل آئے … ہم حیران ہیں… حیران سے زیادہ پریشان کہ کیا لوگ اب بھی احتجاج کرتے ہیں… سڑکوں پر نکلتے ہیں ‘ اپنی مانگوں اور مطالبات کیلئے آواز بلند کرتے ہیں… ہم سچ میں حیران اور پریشان ہیں… اور اس لئے ہیں کہ ہمیں تو کہا جارہا ہے کہ اب کشمیر میں بجلی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے… پانی کا مسئلہ ہو سکتا ہے… لیکن بجلی کا نہیں کہ … کہ اس مسئلہ کو بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے… اور اس لئے کیا گیا ہے کہ اب وادی میں سمارٹ میٹر لگائے گئے ہیں… وہی سمارٹ میٹر جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پیسہ پھینکو اور تماشا دیکھو… یعنی آپ پیشگی میں ادایگی کیجئے … ریچارج کیجئے تو … تو آپ کو ۷x۲۴ بجلی فراہم کی جائیگی… یہ جناب کوئی انتخابی وعدہ نہیں ہے… بلکہ یہ ضمانت دی گئی ہے … کسی سیاسی جماعت نے نہیں بلکہ حکومت جموں کشمیر نے ضمانت دی ہے کہ… کہ جہاں بھی سمارٹ میٹر نصب ہو ں گے… اور ہمارا ماننا ہے کہ سعدہ کدل میں بھی یہ نصب ہوں گے ‘ وہاں ۷x۲۴ بجلی فراہم کی جائیگی۔لیکن… لیکن صاحب اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ… کہ سمارٹ میٹر والے علاقوں میں سچ میں ۷x۲۴ بجلی رہتی ہے… یقینا ان علاقوں میں بھی بجلی کبھی کبھی آرام کرتی ہے… تھوڑی سی شارٹ بریک لیتی ہے… لیکن اس بریک کا دورانیہ زیادہ نہیں ہو تا ہے… بالکل بھی نہیں ہوتاہے…لگتا ہے اب ہماری امیدیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ہم اس چھوٹی سی بریک کو بھی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اورسڑکوں پر نکل آتے ہیں… صاحب !ہماری سڑکوں پر نکلنی کی عادت کب جائیگی کہ… کہ جتنی جلدی یہ جائیگی … اتنا ہی بہتر ہے … کہ کیا معلوم کل کو پتہ چلے کہ… کہ اب سڑک ‘ بجلی اور پانی کیلئے آواز اٹھانا بھی … بھی… بس اس سے آگے ایک لفظ بھی نہیں کہ… کہ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے ۔ ہے نا؟




