نہیں جانتے ہیں اور بالکل بھی نہیں جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا… کون سچا ہے اور جھوٹا کون ہے… کون سچ بول رہاہے اور جھوٹ کون سنانا رہا ہے… ہم کچھ نہیں جانتے ہیں … ارو اللہ میاں کی قسم اگر ہم کچھ جانتے بھی ہوتے تو… تو بھی ہم کوئی فیصلہ نہیں سناتے … بالکل بھی نہیں سناتے کہ ہم تھوڑے ہی کسی عدالت کے جج ہیں جو ایسا کریں … نہیں صاحب ہم ایسا نہیں کرتے … بالکل بھی نہیں کرتے … لیکن… لیکن کچھ ایک باتیں ضرور ہیں… کچھ ایک حقائق ‘ جن کو جان کر‘ پہنچان کر ہم کوئی رائے قائم کر سکتے ہیں… یہ جناب آئے اور آتے ہی انہوں نے مارچ سیشن ختم کیا اور کشمیر کا روایتی تعلیمی کلینڈر بحال کیا … سال گزشتہ اور امسال بھی اسی بحال شدہ تعلیمی کلینڈر کے تحت وادی کے اسکولوں میں اس وقت امتحانات جا ری ہیں یا ان کی تیاری ہو رہی ہے… آتے انہوں نے جزوی طور پر در بار مو بحال کیا اور خود جموں جا پہنچیں اور… اور امسال دربار کو مکمل طور پر بحال کر کے ملازمین کی اچھی خاصی تعداد کو جموں چلتا کیا… یہ جناب خود بھی جا رہے ہیں کہ… کہ ۳نومبر کو جموں میں دربار بحال ہو رہا ہے… ان دونوں فیصلوں میں ان جناب کے ہاتھ کسی نے نہیں روکے… کسی نے بھی نہیں روکے …یہ دو فیصلے اُنہوں نے کئے تھے‘ جان بوجھ کر کئے تھے ‘ جن پر یہ جناب بات بات اور ہر ایک بات پر مداخلت کا الزام لگا رہے ہیں… اور اب ان الزامات کا حجم بڑھتا جارہا ہے… ہمیں ان دونوں کے معاملات میں پڑنے یا ان سے الجھنے کا کوئی شوق نہیں ہے… لیکن صاحب اگر یہ جناب دو اتنے بڑے فیصلے کر سکتے ہیں… تو دوسرے فیصلے ‘ جن کا تعلق براہ راست لوگوں اور ان کی فلاح سے ہے‘ کو لینے میں ان جناب کے ہاتھ کس نے باندھ دئے ہیں… کہ اگر اُن کو مداخلت کرنی ہوتی … رکاوٹ ڈالنے ہو تی تو… تو ان دو فیصلوں کو روکتے جو ان جناب نے آتے ہی لئے… لیکن ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہوا … ایسا ویسا کچھ بھی نہیں کیا گیا… بلکہ دونوں فیصلوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا گیا … خاموشی سے ‘ عزت و احترام کے ساتھ بھی ۔ بس ہم اتنا ہی جانتے ہیں‘ اس سے کم اور نہ زیادہ ۔ہے نا؟




