سرینگر/۲۹؍اکتوبر
جموں کشمیر حکومت نے بدھ کے روز ایوان میں کہا کہ جموں و کشمیر۵۱۱بے زمین افراد کو مکانات کی تعمیر کے لیے فی فرد پانچ مرلہ اراضی فراہم کی گئی ہے ، جبکہ اسکیم کے تحت۲۵۶۸درخواستیں مختلف بنیادوں پر مسترد کر دی گئی ہیں۔
حکومت نے ایوان میں ایک سوال کے جواب میں کہا’’جموں وکشمیر میں کل۵۱۱بے زمین افراد کو فی فرد۵ مرلہ اراضی فراہم کی گئی ہے جس میں سے کشمیر میں کل۲۳۴؍اور صوبہ جموں میں۲۷۷؍استفادہ کنندگان کو یہ زمین فراہم کی گئی ہے ‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ضلع بانڈی پورہ میں سب سے زیادہ۱۰۹؍استفادہ کنندگان کو زمین فراہم کی گئی ہے اور ضلع بارہمولہ میں۶۱، ضلع اننت ناگ میں۳۰؍افراد کو اراضی فراہم کی گئی ہے جبکہ صوبہ جموں میں ضلع راجوری میں۴۸؍افراد کو، ضلع ڈوڈہ میں۶۸؍اور ضلع کشتواڑ میں۵۵؍افراد کو مکانوں کی تعمیر کے لئے اراضی فراہم کی گئی ہے تاہم شوپیاں، بڈگام اور رام بن اضلاع میں کسی کو یہ زمین فراہم نہیں کی گئی ہے ۔
حکومت نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت ۲ہزار ۵سو۶۸درخواست دہندگان کو زمین کی الاٹمنٹ سے انکار کردیا گیا۔
جواب میں کہا گیا’’ضلع راجوری میں سب سے زیادہ ایک ہزار ۲سو۴۵درخواست مسترد کئے گئے جبکہ اننت ناگ میں۲۸۶،ضلع رام بن میں۱۶۲؍اور ضلع اودھم پور میں۱۴۶درخواست متسرد کر دئے گئے ۔
ان کا کہنا ہے کہ درخواستوں کے مسترد ہونے کی وجوہات میں درخواست دہندگان کی اہلیت کے معیار پر پورا نہ اترنا، موجودہ رہائشی اراضی کے مالک ہونا ، جنگلات یا رکھ اور کھیتوں کے علاقوں میں رہائش پذیر ہونا یا پہلے سے ہی پانچ مرلہ سے زیادہ زمین کے مالک ہونا، شامل ہیں۔










