سرینگر/۲۸؍اکتوبر
جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد لون نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مختلف بھرتی ایجنسیوں کے ذریعے وصول کی جانے والی درخواست کی فیس معاف کرنے کے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہو کر جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو دھوکہ دے رہی ہے ۔
لون نے منگل کو ’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا’’نیشنل کانفرنس نے اپنے انتخابی منشور میں، جموں و کشمیر سروسز سلیکشن ریکروٹمنٹ بورڈ (جے کے ایس ایس آر بی)، جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی)، اور دیگر ریاستی اداروں کی طرف سے وصول کی جانے والی درخواست فیس کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا‘‘۔
ان کا پوسٹ میں کہنا تھا’’میں نے یہ جاننے کے لیے ایک سوال پوچھا کہ کیا یہ انتخابی وعدہ پورا ہوا ہے ، تو جواب میں وزیر اعلیٰ، جو گاندربل کے رکن اسمبلی بھی ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر اب تک درخواست کی فیس کی صورت میں۳۱کروڑ روپے جمع کیے جا چکے ہیں‘‘۔
لون نے کہا’’ ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے لیے درخواست فیس ختم کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے ،اور ایسی کوئی تجویز بھی زیر غور نہیں ہے ‘‘۔
ہندوارہ کے ممبر اسمبلی نے کہا’’یہ۳۱کروڑ روپے بہت سارے ٹوٹے ہوئے وعدوں میں سے ایک کی عکاسی کرتا ہے ، اور جھوٹ اور فریب کے سلسلے میں ایک اور اضافہ ہے ‘‘۔
ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا’’براہ کرم، ایک بار، کیا وہ صرف یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بولا اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے معافی مانگیں گے ۔یو این آئی‘‘
۔۔۔۔۔۔۔










