چلئے صاحب راجیہ سبھا الیکشن بھی تمام ہوا …اور وہ سارے دعوے بھی جو ان انتخابات کے حوالے سے کئے جا رہے تھے…یقینا ہر کوئی بڑے بڑے دعوے کررہا تھا لیکن… لیکن ایک ایسے سیاستدان بھی تھے جنہوںنے ایسا دعویٰ کیا کہ کم بخت انہوںنے اپنی رہی سہی اعتباریت بھی ختم کردی … سو فیصد کردی ۔ مانتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ سیاستدان دعوے کرتے رہتے ہیں … الیکشن میں تو یہ دعوے ہول سیل میں ہو تے ہیں… لیکن صاحب پھر بھی ان دعوؤں کی کوئی حقیقت ہوتی ہے… زمینی حقائق سے قریب … زیادہ قریب نہ سہی لیکن کچھ قریب ضرور ہوتے ہیں… لیکن اپنے ایل او پی صاحب … بی جے پی کے سنیل شرما صاحب نے ایک ایسا دعویٰ کرڈالا کہ اب ان کی بات پر کوئی بھروسہ اور اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہو گا اور بالکل بھی نہیں ہو گا… اس لئے نہیں ہو گا کیونکہ ان جناب نے دعویٰ ہی کچھ ایسا کیا تھا… جمعہ کی صبح صبح جب ابھی راجیہ سبھا الیکشن کے حوالے سے ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا تھا… ان جناب نے اعلان کیا کہ بی جے پی چار کی چار نشستیں جیت جائیگی … توبہ توبہ انہیں اللہ میاں کا خوف بھی نہیں تھا جو یہ جناب اس قدر ہول سیل میں پھینک رہے تھے…یا تو یہ اُسی وقت نیند سے بیدار ہو گئے تھے اور منہ ہاتھ دھوئے بغیر رات کو آیا خواب بیان کررہے تھے… یا پھر یہ جناب بالکل بھی سو نہیں پائے تھے… نیند مکمل نہیں کر پائے تھے سو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہے تھے…بہکی بہکی باتیں اس لئے کہ … کہ راجیہ سبھا کے حتمی نتائج میں حکمران جماعت نے تین جبکہ شرما صاحب کی بی جے پی نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ۔خیر!راجیہ سبھا کے الیکشن ہو ئے اور نتائج توقعات کے مطابق ہی آئے… لیکن… لیکن کوئی اپنے ایل او پی صاحب سے کہے… کوئی انہیں سمجھائے‘ کوئی انہیں مشورہ دے کہ جناب آپ یقینا سیاستدان ہیں… دعوے کرنا آپ کا حق نہیں بلکہ پیدائشی حق ہے… لیکن… لیکن اتنا ہی پھینکا کریں جتنا آپ بعد میں سمیٹ سکتے ہیں… اب سمیٹ لیجئے… آج جو آپ نے پھینکا اسے سمیٹ لیجئے … کہ… کہ آپ کو بھی اندازہ ہو جائیگا کہ… کہ یہ کتنا مشکل کام ہے… ایسا مشکل کام جسے آپ کو نہیں کرنا چاہئے تھا… بالکل بھی نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ ہے نا؟




