سرینگر/۲۳؍ اکتوبر
سرینگر کے حبہ کدل علاقے کے کرفلی محلے میں دوران شب پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے ایک بار پھر وادی میں بڑھتے ہوئے آگ کے واقعات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لگی اس آگ نے کم از کم دس رہائشی مکانوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا، جبکہ ایک درجن سے زائد خاندان بے گھر ہوگئے۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مگر مالی نقصان بے حد بھاری ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، آگ رات کے قریب دو بجے ایک مکان سے بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے محلے میں پھیل گئی۔ شعلوں کی شدت اتنی تھی کہ دور دراز علاقوں سے بھی دھواں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی، مگر گنجان بستی اور لکڑی کے مکانات کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلتی گئی۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے مطابق سترہ فائر ٹنڈرز کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ صرف دو دن قبل اسی علاقے میں سات مکانات جل کر خاکستر ہوئے تھے۔ رواں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی وادی میں اس طرح کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے عوام کے نام ایک اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سردیوں کے موسم میں برقی ہیٹنگ آلات، گیس اسٹوو اور کانگڑی کے غیر محتاط استعمال سے آگ لگنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
محکمے نے واضح ہدایت دی ہے کہ سونے سے قبل یا گھر سے باہر نکلنے سے پہلے تمام ہیٹنگ آلات اور گیس اسٹوو بند کر دیے جائیں، جبکہ کانگڑی کو رات کے وقت محفوظ مقام پر رکھا جائے۔
یہ ایڈوائزری محض رسمی ہدایت نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بن چکی ہے۔ حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تھوڑی سی غفلت بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے۔ گنجان بستیوں میں مکانات کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے باعث ایک گھر میں لگی آگ لمحوں میں کئی زندگیوں کو متاثر کر دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی بیداری اور احتیاطی تدابیر ہی ان حادثات کے اثرات کو کم کر سکتی ہیں۔ مقامی سماجی اداروں اور محلہ کمیٹیوں کو بھی چاہیے کہ وہ فائر سیفٹی آگاہی مہمات شروع کریں، تاکہ گھریلو سطح پر حفاظتی انتظامات بہتر بنائے جا سکیں۔
کرفلی محلہ کا سانحہ ایک وارننگ ہے‘ یہ بتاتا ہے کہ فائر سیفٹی محض سرکاری ذمے داری نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا حصہ ہونی چاہیے۔ اگر عوام نے محکمہ کی ہدایات پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا تو آنے والے سرد ایام میں مزید ایسے المناک واقعات سے انکار ممکن نہیں۔
وادی میں آتشزدگی کے بڑھتے واقعات یہ پیغام دے رہے ہیں کہ احتیاط کو معمول نہیں بلکہ عادت بنانا ہوگا۔ کیونکہ ایک پل کی لاپرواہی، برسوں کی محنت جلا سکتی ہے۔
(ویب ڈیسک)










