نئی دہلی/۲۱؍اکتوبر
اس دیوالی پر اشیاء کی فروخت اور خدمات کو ملا کر چھ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے کاروبار کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔
تاجروں کی سرکردہ قومی تنظیم کیٹ (سی اے آئی ٹی) کی منگل کے روز جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیوالی پر۴۰ء۵لاکھ کروڑ روپے کی اشیاء اور ۶۵ہزار کروڑ روپے کی خدمات کی فروخت ہوئی۔
کیٹ نے ملک بھر کے۶۰؍اہم تقسیم مراکز، جن میں تمام ریاستوں کے دارالحکومت اور ٹیئر۲/ ٹئیر۳شہر شامل ہیں، پر مبنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس سال دیوالی پر ملک بھر میں کل فروخت ۰۵ء۶لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، اس میں۴۰ء۵لاکھ کروڑ روپے کی اشیاء کی تجارت اور۶۵ ہزار کروڑ روپے کی خدمات کی تجارت شامل ہے ۔
یہ ملک کی تجارتی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا تہواری (فیسٹیول) کاروبار ہے ۔
دہلی کے چاندنی چوک لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ اور کیٹ کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ’ووکَل فار لوکل‘اور ’سوَدیشی دیوالی‘کی اپیل کا اثر واضح طور پر دیکھا گیا اور۸۷ فیصد صارفین نے ہندوستانی مصنوعات کو غیر ملکی اشیاء کے مقابلے میں ترجیح دی، جس کی وجہ سے چینی مصنوعات کی مانگ میں کمی دیکھی گئی۔
تاجروں نے بتایا کہ سو دیشی مصنوعات کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں۲۵فیصد بڑھی ہے ، رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دیوالی پر۲۵ء۴لاکھ کروڑ روپے کی اشیاء فروخت ہوئی تھیں۔
اس سال اس میں۲۵فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جس میں بنیادی طور پر غیر کارپوریٹ اور روایتی بازاروں نے کل کاروبار میں۸۵فیصد حصہ دیا، کیٹ کے قومی صدر بی سی بھارتیہ نے بتایا کہ کل فروخت میں کیرانہ اور ایف ایم سی جی مصنوعات کا حصہ ۱۲فیصد، سونا،چاندی کا۱۰فیصد، الیکٹرانکس اور برقی آلات کا۸فیصد، کنزیومر ڈیوریبلز کا۷ فیصد، ریڈی میڈ ملبوسات کا ۷فیصد، تحفے کی اشیاء کا۷فیصد، ہوم ڈیکور کا ۵فیصد، فرنیچر و سجاوٹ کا ۵فیصد، مٹھائی و نمکین کا۵فیصد، کپڑوں کا۴فیصد، پوجا کی اشیاء کا۳فیصد، پھل و خشک میوہ جات کا۳فیصد، بیکری و کنفیکشنری کا۳فیصد، جوتوں کا ۲فیصد اور دیگر اشیاء کا ۱۹فیصد حصہ رہا۔
کھنڈیلوال نے بتایا کہ خدمات کے شعبے میں۶۵ہزارکروڑ روپے کے کاروبار میں پیکیجنگ، میزبانی، ٹیکسی خدمات، سفر، ایونٹ مینجمنٹ، خیمہ و سجاوٹ، مین پاور اور ڈیلیوری جیسے شعبوں میں بھی غیر معمولی سرگرمی دیکھنے کو ملی۔(ویب ڈیسک)










