رام اللہ، 14 اکتوبر (یو این آئی) جنوبی غزہ میں اسرائیلی فورسز کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 2 فلسطینی زخمی ہوگئے ۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق نصیر میڈیکل کمپلیکس کے ذرائع نے بتایا کہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں 2 فلسطینی اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہوئے ، جنہیں علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا ہے ۔
دوسری جانب فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج صبح سے شمالی غزہ کے علاقے جبالیا کے مشرق میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ لڑائی وزارتِ داخلہ سے وابستہ سیکیورٹی فورسز اور اسرائیل کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان ہو رہی ہے ۔
ادھر سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں رات بھر چھاپے مارے ، جن میں رام اللہ، البیرہ اور الخلیل (ہیبرون) کے کئی محلے اور دیہات شامل تھے ۔
رام اللہ کے عین منجد محلے میں اسرائیلی فوج نے حال ہی میں رہا ہو کر غزہ بھیجے گئے عصام الفروخ کے گھر پر دھاوا بولا اور گھر کی تلاشی لی۔
رام اللہ کے مغرب میں واقع گاؤں دیر ابزیع میں کم از کم 7 گھروں پر چھاپے مارے گئے اور رہائشیوں سے موقع پر ہی پوچھ گچھ کی گئی، اسرائیلی افواج نے عین عریق اور نعلین کے علاقوں میں بھی داخل ہو کر کارروائیاں کیں۔
اسی دوران یہودی آبادکاروں نے رام اللہ کے مشرق میں واقع بیتین قصبے میں ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔
جنوبی مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج نے ادھنا اور الکوم کے قصبوں پر بھی چھاپے مارے اور دو گھروں کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا۔
اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ اسرائیلی افواج نے طولکرم اور مشرقی یروشلم کے قریب العیساویہ میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد زخمی اور کئی دیگر گرفتار ہوئے ۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے فرانچیسکا البنیز نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اسرائیلی افواج مقبوضہ مغربی کنارے میں قیدیوں کی رہائی کی خوشی منانے پر لوگوں پر پابندی لگا رہی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ اسے امن کہتے ہیں، مگر فلسطینیوں کے لیے یہ بدترین نسل پرستی ثابت ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ دنیا کے لوگو، اب نظریں مت ہٹانا، تمام نگاہیں فلسطین پر رہنی چاہئیں۔










