جموں/۱۴؍؍اکتوبر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج ۱۹۶۵ کی جنگ میں بھارت کی تاریخی فتح کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور سابق فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ تقریب مغربی کمان اور۲۶ انفنٹری ڈویڑن کی جانب سے جموں میں منعقد کی گئی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سابق فوجیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۶۵ کی جنگ میں کامیابی اور حالیہ آپریشن سندور بھارتی فوج کے بہادری، قربانی اور عزم کا مظہر ہے۔ ’’دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارتی فوج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں سے ایک ہے‘‘۔
انہوں نے ۱۹۶۵ کی جنگ کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جن سپاہیوں نے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاور کیں، ان کا قرض کبھی ادا نہیں ہوسکتا۔
ایل جی نے کہا’’پاکستان جیسے دہشت گرد ملک کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے ہمارے سپاہیوں کی دھرتی مقدس ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سابق فوجیوں کے لیے غیر متزلزل عقیدت ان کی پالیسیوں کی بنیاد ہے۔ ’’میرے لیے سابق فوجیوں کی سرزمین ایک تیرتھ سے کم نہیں۔ انہوں نے ملک کی معیشت، سماجی تبدیلی اور ایک شاندار بھارت کی تعمیر میں بے پناہ کردار ادا کیا ہے‘‘۔
ایل جی نے۲۶؍ انفنٹری ڈویڑن کی بہادری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ’’ہم اپنے ہر شہری کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیں گے۔ کوئی ہماری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا‘‘۔
سنہا نے سابق فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور نظم و ضبط کو سماجی خدمت اور عوامی فلاح کے کاموں میں بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا’’ہمارے سابق فوجی نوجوانوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ نئی نسل کو حب الوطنی، نظم و ضبط اور بے لوث خدمت کے اقدار سکھائیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے شہداء اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کا احترام کریں۔ ’’یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ویٹرنز اور شہداء کے اہلِ خانہ کو باوقار زندگی فراہم کریں‘‘۔










