سرینگر/۱۴؍اکتوبر
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے منگل کو عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس (این سی) پر ’اعتماد کے بار بار دھوکے‘کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ راجیہ سبھا انتخابات میں کانگریس کو ایک محفوظ نشست دینے سے انکار دراصل نیشنل کانفرنس کے انڈیا بلاک سے دور ہونے کی علامت ہے۔
قرہ‘ جنہوں نے اتوار کو پارٹی کے اہم ارکان کی میٹنگ کی صدارت کی تھی، نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اختلافات پر کھل کر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ این سی کے ارادے شروع سے ہی’مشکوک‘ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے اپنی رپورٹ پارٹی ہیڈکوارٹر کو پیش کر دی ہے تاکہ اس پر آئندہ کارروائی کی جا سکے۔‘‘
قرہ کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رویے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کانگریس کو حاشیے پر دھکیلنے اور اس کی حمایت کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اتوار کے اجلاس میں، قرہ نے چھ ایم ایل ایز اور دیگر عہدیداران کو نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد کی تفصیلی صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا ’’آنے والے راجیہ سبھا انتخابات میں ایک محفوظ نشست دینے کے وعدے سے پیچھے ہٹ کر، نیشنل کانفرنس دراصل انڈیا اتحاد سے بتدریج دور جا رہی ہے۔‘‘
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ فاروق عبداللہ نے خود واضح طور پر وعدہ کیا تھا کہ کانگریس کو ایک محفوظ نشست دی جائے گی تاکہ اتحاد میں اس کے اہم کردار کا اعتراف ہو۔قرہ کے مطابق، ’’اس وعدے کی خلاف ورزی ایک کھلا دھوکہ ہے اور اتحاد کے اصولوں کی صریح پامالی۔‘‘
گزشتہ ہفتے نیشنل کانفرنس نے راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا تھا اور چوتھی نشست کانگریس کو پیش کی تھی۔ تاہم، کانگریس نے اپنے امیدوار داخل نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد نیشنل کانفرنس نے پیر کو اپنا چوتھا امیدوار بھی میدان میں اتار دیا۔
قرہ نے اس اقدام کو اتحاد کے نظریے سے انحراف اور ’’فیصلہ کن دھوکہ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا، ’’ہم ایک ایسے مستقبل کے خواہاں ہیں جہاں کانگریس ایک مضبوط، متحرک اور آزاد سیاسی قوت کے طور پر ابھرے، غیر معتبر اتحادیوں کے سہارے کے بغیر۔‘‘
جموںکشمیر کانگریس کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ کانگریس نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد اعلیٰ مقصد کے تحت کیا تھا ‘ یعنی جموں و کشمیر میں عزتِ نفس کی بحالی اور تفریق کی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے۔
اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس کے پاس اس وقت ۴۱؍ایم ایل ایز ہیں، جبکہ کانگریس کے ۶؍ ارکان کی حمایت واپس لینے کی صورت میں عمر عبداللہ حکومت کی طاقت ۹۰ رکنی اسمبلی میں ۴۸ تک سکڑ جائے گی۔ حکومت کو فی الحال ۶آزاد اراکین اور سی پی ایم کے ایک رکن کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن بلاک میں بی جے پی کے ۲۸، پی ڈی پی کے۳، عام آدمی پارٹی اور پیپلز کانفرنس کے ایک ایک رکن کے علاوہ انجینئر رشید کی پارٹی کی ایک نشست بھی شامل ہے۔
اس وقت اسمبلی کی مؤثر تعداد ۸۸ ہے، کیونکہ نگروٹہ نشست بی جے پی لیڈر دیویندر سنگھ رانا کی وفات کے بعد خالی ہے، جبکہ بدگام نشست اس لیے غیر نمائندہ ہے کہ عمر عبداللہ نے گاندربل کی سیٹ برقرار رکھی۔اس لحاظ سے اکثریت کا ہدف ۴۵؍ ارکان کا ہے۔
قرہ نے کہا کہ اتوار کی میٹنگ کا مقصد پارٹی کے مستقبل پر غور کرنا تھا، تاکہ کانگریس ایک آزاد، مضبوط اور خودمختار قوت کے طور پر ابھرے، ’’غیر معتبر اتحادیوں کی بیساکھیوں‘‘ پر نہیں۔
کانگریسی لیڈر نے کہا ’’بزرگ اتحادی ہونے کے ناطے، انڈین نیشنل کانگریس نے خاص طور پر ۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات میں بڑی قربانیاں دیں۔ اپنی قومی حیثیت اور تنظیمی طاقت کے باوجود، ہم نے نشستوں کی غیر منصفانہ تقسیم قبول کی تاکہ قومی مفاد اور اتحاد کی روح برقرار رہے‘‘۔
قرہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے اقدامات نے بار بار اس اعتماد کو توڑا جس کی بنیاد پر اتحاد قائم ہوا تھا، اور شروع سے ہی اس کے ارادوں پر سوال اٹھاتا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ریمارکس ناقابلِ برداشت ہیں، جن میں انہوں نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ کانگریس قیادت کو ’’کشمیر کے باہر پر توجہ دینی چاہیے‘‘۔
کانگریسی لیڈر نے عمر عبداللہ کے اس بیان پر بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وزیر اعظم جو کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں، اس لیے ہم ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔‘‘
قرہ کے مطابق، یہ بیان دراصل بی جے پی کے تئیں نیشنل کانفرنس کے ’’نرم رویے‘‘ کی جھلک دیتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی پر بھی کانگریس کو مشاورت سے باہر رکھا گیا۔
نیشنل کانفرنس کی قیادت نے کابینہ میں ایک قرار داد منظور کی مگر کانگریس کو اس میں شامل نہیں کیا گیا، جس سے اتحادی شراکت داری کا اصول مجروح ہوا۔قرہ کے مطابق، کانگریس کی جانب سے ریاستی درجہ بحال کرنے اور انصاف کے لیے شروع کی گئی ریاست گیر احتجاجی مہم میں بھی نیشنل کانفرنس نے خود کو الگ کر لیا، جو ’’پس قدمی‘‘ کا رویہ ظاہر کرتا ہے اور اتحاد کی اجتماعی آواز کو کمزور کرتا ہے۔(ندائے مشرق ڈیسک)










