’اتنے برسوں کی مسلسل جنگ اور نہ ختم ہونے والے خطرات کے بعد، آج آسمان پرسکون ہیں، بندوقیں خاموش ‘
سرینگر/۱۳؍اکتوبر
جاری جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ عمل میں آیا، جس کے دوران متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا جبکہ اسرائیل نے بھی سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا۔
یہ تبادلہ بین الاقوامی ثالثوں، خصوصاً قطر اور مصر کی کوششوں سے ممکن ہوا۔ رہائی پانے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق، قیدیوں کے اس تبادلے کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران کو کم کرنا اور فریقین کے درمیان ممکنہ پائیدار جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
دونوں فریقوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر موجودہ معاہدہ کامیاب رہا تو مزید مراحل میں بھی رہائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اس سے پہلے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پیر کے روز اسرائیل کے لیے روانہ ہوئے تو اْن کے طیارے نے تل ابیب کے ساحل پر ریت پر لکھے الفاظ’تھینک یو‘ کے اوپر سے پرواز کی۔
’ایئر فورس ون‘ پر سوار ہوتے ہوئے ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ’جنگ ختم ہو گئی ہے‘، جس کا اشارہ اْنہوں نے غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی عسکری تنظیم حماس کے درمیان دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کی طرف دیا۔
امریکہ کی ثالثی سے گزشتہ ہفتے طے پانے والی نئی جنگ بندی کے تحت سات اسرائیلی یرغمالیوں کو ٹرمپ کے اسرائیل پہنچنے سے قبل رہا کر دیا گیا، جبکہ باقی ۱۳ زندہ یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل میں زیر حراست۱۷۰۰سے زائد فلسطینیوں کو غزہ جبکہ ۲۵۰ قیدیوں کو مغربی کنارہ، یروشلم اور دیگر ممالک بھی بھیجا گیا۔
جب ٹرمپ اسرائیل پہنچے تو اْن کا استقبال وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر آئزک ہرزوگ نے کیا۔ ٹرمپ نے مبینہ طور پر نیتن یاہو سے کہا’’یہ ایک عظیم دن ہے، شاید تمہارا سب سے بہترین دن‘‘۔جس پر نیتن یاہو نے جواب دیا، ’یہ تاریخی ہے‘۔
ٹرمپ کا اسرائیل میں ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔ یروشلم میں ایک بل بورڈ پر لکھا تھا، ’یو آر آور ونر‘ (تم ہمارے فاتح ہو) … اس کے ساتھ ٹرمپ کی تصویر ایک تمغے پر بنی ہوئی تھی، چند دن بعد جب وہ نوبل امن انعام نہیں جیت سکے جس کے لیے نیتن یاہو نے اْنہیں نامزد کیا تھا۔
صدر ہرزوگ نے اپنی جانب سے کہا کہ وہ ٹرمپ کو اسرائیل کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’پریزیڈنشل میڈل آف آنر‘ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہرزوگ کے دفتر کے بیان میں کہا گیاـ’’اسرائیل کے لیے اْن کی غیر متزلزل حمایت سے لے کر ابراہیم معاہدوں تک جنہوں نے ہمارے خطے میں امن کے دائرے کو وسعت دی، دو تاریخی معاہدوں سے جنہوں نے ہمارے قیمتی یرغمالیوں کو گھر واپس لایا اور بے شمار زندگیاں بچائیں، ایران کے جوہری پروگرام پر فیصلہ کن حملے تک … صدر ٹرمپ کی آواز ہمیشہ جرات، قیادت اور انسانیت کے لیے امن کے حصول کی علامت رہی ہے‘‘۔تاہم ہر کوئی جشن منانے کے قابل یا خواہش مند نہیں۔
یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ اس دو مرحلہ بند جنگ بندی معاہدے کا صرف ایک حصہ ہے۔ دوسرا مرحلہ، جس پر اب بھی مذاکرات جاری ہیں، زیادہ نازک ہے۔ اس میں ایسے نکات شامل ہیں جن پر اتفاقِ رائے مشکل ہو سکتا ہے، جیسے کہ اسرائیلی دفاعی افواج کی غزہ سے واپسی کی حد، مستقبل کی تعیناتی، اور جنگ کے بعد غزہ پر حکومت کون کرے گا۔
اسرائیل نے بھی جنگ کے خاتمے کو ٹرمپ جتنا قطعی نہیں کہا۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اْس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی جب تک ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی… جس کی اسرائیل مخالفت کرتا ہے۔
ایئرپورٹ سے ٹرمپ سیدھے اسرائیلی پارلیمنٹ، کنسیٹ پہنچے، جہاں انہوں نے قانون سازوں سے خطاب کیا۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ۲۰۰۸ میں آخری امریکی صدر تھے جنہوں نے کنسیٹ سے خطاب کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق کنسیٹ کے عملے نے شرکا میں سرخ ٹوپیاں تقسیم کیں جو ’ماگا‘ طرز کی تھیں اور اْن پر لکھا تھا’ٹرمپ امن کے صدر‘۔
ٹرمپ نے قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’اتنے سالوں کی نہ ختم ہونے والی جنگ اور بے شمار خطرات کے بعد آج آسمان پرسکون ہیں، بندوقیں خاموش ہیں، سائرن تھم گئے ہیں، اور سورج ایک مقدس سرزمین پر طلوع ہو رہا ہے جو آخرکار امن پا چکی ہے‘‘۔وہ دو گھنٹے کی تاخیر سے کنسیٹ کے ایوان میں داخل ہوئے کیونکہ انہوں نے پہلے کچھ یرغمالیوں کے خاندانوں سے ملاقات کی تھی۔ اْنہوں نے اسپیکر امیر اوہانا، وزیر اعظم نیتن یاہو، اور قائدِ حزبِ اختلاف یائیر لاپیڈ کے بعد تقریر کی … جن تینوں نے امریکی صدر کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ وہ نوبل امن انعام کے مستحق ہیں۔
ٹرمپ نے کہا’’یہ صرف ایک جنگ کا اختتام نہیں ہے۔ یہ دہشت اور موت کے ایک دور کا خاتمہ اور ایمان، امید اور خدا کے دور کا آغاز ہے۔ یہ اسرائیل اور جلد ہی ایک عظیم خطہ بننے والی تمام اقوام کے لیے عظیم ہم آہنگی اور دائمی امن کا آغاز ہے۔ یہ ایک تاریخی نئے مشرقِ وسطیٰ کا طلوع ہے‘‘۔
امریکی صدر کی تقریر کے دوران ایک مظاہر نے نعرہ بازی کی، جسے فوراً باہر نکال دیا گیا۔ بعد میں ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جن میں شامل تھے:امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف، اْن کے داماد جیرڈ کشنر، اور مارکو روبیو، جنہیں ٹرمپ نے کہا کہ وہ’امریکی تاریخ کے سب سے عظیم وزیرِ خارجہ کے طور پر جانے جائیں گے‘۔
اپنی تقریر کے بعد ٹرمپ مصر روانہ ہوئے‘جہاں وہ مشرقِ وسطیٰ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس اجلاس میں تقریباً ۲۰ عالمی رہنما شریک ہوں گے، جن میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شامل ہوں گے، تاہم نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










