سرینگر/۱۰؍اکتوبر
بھارت نے جمعہ کوپاکستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر ایک واضح اور دوٹوک پیغام بھیجا، جب وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ مشترکہ بیان میں افغانستان کو ’متصل پڑوسی‘ قرار دیا۔
بھارت اور افغانستان کے درمیان۱۰۶ کلومیٹر طویل زمینی سرحد ہے، جو واکھان کاریڈور کہلاتی ہے…یہ ایک اسٹریٹجک طور پر اہم پٹی ہے جس پر چین کی نظریں بھی جمی ہیں۔ جے شنکر کے بیان کے تناظر میں یہ کاریڈور افغانستان کو کشمیر کے اْس حصے سے جوڑتا ہے جو غیر قانونی طور پر پاکستان کے قبضے میں ہے۔لہٰذا’متصل پڑوسی‘کا حوالہ پاکستان کو ایک تیز اور دوٹوک یاد دہانی تھی۔
جے شنکر نے کہا’’ایک متصل پڑوسی اور افغان عوام کا خیرخواہ ہونے کے ناطے، بھارت کو آپ کی ترقی اور پیش رفت میں گہری دلچسپی ہے‘‘۔ ساتھ ہی انہوں نے افغانستان کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے اور کابل میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا۔مگر پاکستان پر یہ واحد طنز نہیں تھا۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور افغانستان دونوں’سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے‘ سے دوچار ہیں۔
یہ بیان خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ اْس وقت سامنے آیا جب پاکستان نے افغانستان میں فوجی کارروائی کی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہاں سے پاکستانی علاقے میں افغان حمایت یافتہ دہشت گرد حملے کر رہے ہیں۔
درحقیقت، جے شنکر اور متقی کی دہلی ملاقات سے چند گھنٹے قبل، پاکستانی فضائیہ نے کابل میں مبینہ طور پر ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘پر حملہ کیا تھا۔
ایک طالبان ترجمان نے کہا’’کابل میں دھماکے کی آواز سنی گئی، لیکن کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں… سب کچھ ٹھیک ہے، اور کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے‘‘۔
دوسری جانب، متقی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت افغان سرزمین کو بھارت کے خلاف یا کسی دہشت گرد سرگرمی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے بھارت کی اْس امداد کی بھی تعریف کی جو اہم مواقع پر فراہم کی گئی، جیسے اگست کے زلزلے کے دوران جس میں ۲۰۰۰ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، اور کووِڈ وبا کے دوران جب بھارت نے ویکسین بھیجی تھیں۔
متقی نے کہا’’میں دہلی میں موجود ہو کر خوش ہوں، اور یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سمجھ بوجھ میں اضافہ کرے گا۔ بھارت اور افغانستان کو باہمی روابط اور تبادلے بڑھانے چاہئیں‘ہم کسی بھی گروہ کو اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’افغانستان بھارت کو ایک قریبی دوست سمجھتا ہے اور باہمی احترام، تجارت اور عوامی تعلقات پر مبنی رشتے چاہتا ہے۔ ہم اپنے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ایک مشاورتی نظام قائم کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
بھارت نے بارہا پاکستان کو اس کے غیر قانونی قبضے والے کشمیر پر خبردار کیا ہے اور اس کی دہشت گردی کی حمایت اور سرحد پار حملوں کی مذمت کی ہے۔ تازہ ترین مثال پہلگام کا وہ دل دہلا دینے والا حملہ ہے جس میں۲۶؍ افراد جاں بحق ہوئے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی واپسی اور سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کی کارروائی کسی بھی بات چیت کے لیے غیر متنازع شرائط ہیں۔
مئی میں، پہلگام حملے کے جواب میں بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں۹ دہشت گرد اڈے تباہ کیے تھے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کہا تھا’’دہشت اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘ دہشت اور تجارت ساتھ نہیں چل سکتے اور دہشت اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ اگر ہم کبھی پاکستان سے بات کریں گے تو وہ صرف دہشت گردی اور پی او کے پر ہی ہوگی۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )‘‘










