نئی دہلی، 27 ستمبر (یو این آئی) وزیرِ برائے ٹیلی کمیونیکیشن و شمال مشرقی امور جیوتی رادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ سودیشی 4جی موبائل ٹیلی کام ٹیکنالوجی کی تیاری وزیرِاعظم نریندر مودی کی دوراندیش اور جراتمند قیادت کا نتیجہ ہے ۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ہندوستان کی خودانحصاری کا عالمی اعلان ہے ، جسے مستقبل میں دوست ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔ وزیراعظم مودی نے اڈیشہ کے ایک پروگرام سے ملک کے دور دراز علاقوں میں نصب 90 ہزار سے زیادہ موبائل ٹاوروں کا افتتاح کیا، جو سودیشی 4جی اسٹیک پر مبنی ہیں۔ سندھیا کے مطابق یہ کامیابی ‘ وکست بھارت 2047’ کی سمت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے 2020 کے جراتمندانہ اقدام نے ملک کو نئی سمت دی اور سودیشی 4جی اسٹیک تیار کرنے کی راہ ہموار کی، جو موبائل نیٹ ورک کا دماغ اور ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ اس اسٹیک کی تیاری بی ایس این ایل نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت سی-ڈاٹ، تیجس نیٹ ورکس، ٹی سی ایس، صنعت، اسٹارٹ اَپس اور تعلیمی اداروں کے تعاون سے کی۔ اس کے ذریعے ہندوستان اب چین، فن لینڈ، سویڈن اور جنوبی کوریا کے بعد دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے اپنا 4جی ایل ٹی ای/آئی ایم ایس اسٹیک بنایا۔ یہ نہ صرف غیر ملکی انحصار کو کم کرتا ہے بلکہ مستقبل کے 5جی اور اُس سے آگے کی ٹیکنالوجی کے لئے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بی ایس این ایل اب تک ایک لاکھ سے زائد سودیشی 4جی سائٹس نصب کر چکا ہے ، جو آج 2.2 کروڑ ہندوستانیوں کو محفوظ اور تیز رفتار انٹرنیٹ اور کال سروس فراہم کر رہا ہے ۔ یہ نظام ہر دن چار پیٹا بائٹ ڈیٹا کو ہینڈل کرتا ہے اور عام شہریوں کی زندگی میں براہِ راست بہتری لا رہا ہے ۔ کشمیر کی برفانی چوکیوں پر تعینات فوجی اپنے اہلِ خانہ سے ویڈیو کال کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ پنجاب کا کسان آن لائن منڈی ریٹ دیکھ کر بہتر فیصلہ لے رہا ہے اور طلبہ دنیا بھر کا علم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سودیشی 4جی اسٹیک ہندوستان کی خود انحصاری کی علامت ہے ، جو ملک کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اب دنیا کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے ۔










